میکسیکو: 1400 برس قدیم پْر اسرار مقبرے سے موت کا مجسمہ دریافت

لاہور(نیٹ نیوز )میکسیکو میں 1400 برس سے گمشدہ پْر اسرار مقبرہ دریافت ہوا جس میں موجود ایک مجسمہ موت کی عکاسی کر رہا ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ اس مقام پر غیر متوقع طور پر اس وقت پہنچے جب وہ میکسیکو کے ایک قصبے سان پیبلو ہوئیٹزو میں لْوٹ مار کی ایک بے نام رپورٹ سے متعلق تحقیق کر رہے تھے۔حکام نے اس دریافت کو ملک کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے گزشتہ دہائی میں کی جانے والی سب سے اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقبرہ 600 عیسوی سے تعلق رکھتا ہے، یہ دور قدیم زیپوٹیکس (جن کو کلاؤڈ پیپلز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) سے کی ابتداء  سے تھوڑا عرصہ پہلے کا ہے۔کراچی: کارسوارشہری سے 35 لاکھ روپیلوٹے جانے کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے ا?گئی زیپوٹیک تہذیب 700 عیسوی کے قریب وجود میں ا?ئی اور اس کی تنزلی 900 عیسوی میں بتدریج شروع ہوئی اور بالآخر 1521 عیسوی میں ہسپانوی حملے سے یہ تہذیب ختم ہوگئی۔ تاہم، آج کی تاریخ میں آٹھ لاکھ کے قریب افراد کی شناخت زیپوٹکس کے طور پر پہنچانا جاتا ہے۔مقبرے میں موجود باقیات کو محفوظ حالت میں دیکھ کر ماہرین حیران رہ گئے۔ان باقیات میں ایک الّو کا مجسمہ ہے جس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں جبکہ اس کی چونج نے اس وقت کے کسی معزز شخص کا چہرہ ڈھکا ہوا ہے۔زیپوٹیک لوگوں کے مطابق الّو رات اور موت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔