یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کرنے والوں کا احتساب ہوگا، ایلی الباگ

یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کرنے والوں کا احتساب ہوگا، ایلی الباگ

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے تحت، 25 جنوری 2025 کو حماس نے چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا، جن میں 19 سالہ لیری الباگ، کرینہ ایریف، ڈینیلا گلبوا، اور ناما لیوی شامل ہیں۔

رہائی کے بعد، لیری الباگ کے والد، ایلی الباگ، نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین کی تعریف کی جنہوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی حمایت کی۔ انہوں نے معاہدے کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان سے حساب لے گی۔ایلی الباگ نے رابین میڈیکل سنٹر میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی شہریوں کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک آخری یرغمالی گھر واپس نہیں آ جاتا، وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم اور حکومت کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ معاہدے پر قائم رہیں اور تمام یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنائیں۔اسرائیل میں اپوزیشن سیاستدانوں اور یرغمالیوں کے رشتہ داروں کا یہ مؤقف رہا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے میں تاخیر کرتی رہی ہے۔ ایلی الباگ کی جانب سے ان جماعتوں پر تنقید اس قیاس آرائی کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ معاملہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں ایک اہم ایشو رہے گا۔

لیری الباگ کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران دیگر خاتون فوجیوں کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔ حالیہ معاہدے کے تحت حماس نے چار اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جن میں لیری الباگ، کرینہ ایریف، ڈینیلا گلبوا، اور ناما لیوی شامل ہیں۔ایلی الباگ نے سابق امریکی صدور جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ، اور تمام مذاکرات کاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی کام مکمل نہیں ہوا، کیونکہ ان کے خاندان کے مزید 90 افراد قید ہیں، اور اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھا جا سکتا جب تک آخری یرغمالی گھر واپس نہ آ جائے۔