ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش میں ملوث عناصر کا سخت احتساب کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک “احمقانہ جوا” ہے اور ایسے تمام عناصر جو بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سرگرم ہیں، انہیں اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔عباس عراقچی کے مطابق اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت کا گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی عمل ہے اور یہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض قوتیں دانستہ طور پر مشرق وسطیٰ میں تصادم کی فضا کو ہوا دے رہی ہیں، جس کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا دھمکی آمیز اور دباؤ پر مبنی رویہ خطے میں امن کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کے مطابق ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے، تاہم قومی سلامتی اور خودمختاری کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے میں استحکام چاہتا ہے لیکن اگر کسی نے جارحیت یا سازش کا راستہ اپنایا تو تہران اس کا بھرپور اور سخت جواب دے گا۔ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے، اور ایران و مغربی ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔