ڈیفنس میں کار کی ٹکر سے 6 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے کم عمر ملزم افنان کے دوستوں کو مقدمے میں شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔عدالت کے جج شاہد سکندر کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی، جس میں مدعی رفاقت علی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ حادثے کے وقت افنان کے دوست بھی گاڑی میں موجود تھے، اس لیے ان کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے۔وکلا نے دلائل مکمل کیے، اور درخواست میں استدعا کی گئی کہ ملزم افنان کے ساتھ گاڑی میں موجود اس کے دوستوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو 1 ستمبر کو سنایا جائے گا۔ سماعت کے دوران کم عمر ملزم افنان اور اس کے والد شفقت علی بھی پیش ہوئے۔