خراب کی گئیں گاڑیاں، چہرے چاٹنے والے مارموٹ ہائیکرز کیلئے زحمت

لاہور(نیٹ نیوز )امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے نیشنل پارک میں خوب صورت مگر شاطر اور پیٹ کے نیچے زرد رنگ والے مارموٹ ہائیکرز اور کیمپنگ کرنے والوں کے لیے زحمت کا باعث بن رہے ہیں جو جوتے اور بیگ چوری کرنے کے ساتھ ساتھ سامان کو کتر کر خراب کرتے ہیں اور یہاں تک کہ گاڑیوں کو بھی ناکارہ بنا دیتے ہیں۔غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ زمینی گلہری نما جانور جو جسامت میں چھوٹے ہیں لیکن منرل کنگ ویلی میں خاصے بدنام ہوچکے ہیں، نیشنل پارک سروس کی جانب سے بھی سطح سمندر سے7 ہزار 800 فٹ بلند علاقے میں جانے والے سیاحوں کو خبردار کرتی ہے کہ آپ مارموٹ کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سیکوئیا اور کنگز کینین نیشنل پارکس خاص طور پر زیادہ بلندی والے علاقوں میں مارموٹ عام ہیں تاہم ان کی شرارت بھری سرگرمیاں مئی سے جولائی کے وسط تک عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور اس دوران یہ خوراک اور نمک کی تلاش میں ٹریل ہیڈز اور پارکنگ ایریاز میں بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں، ہائیکرز کے لیے مارموٹ سے اچانک سامنا خاصا چونکا دینے والا واقعہ ہوسکتا ہے۔کیلیفورنیا کے علاقے لیورمور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ انجینئر اینڈریو رائن ہارٹ گزشتہ ماہ پہاڑ پر ہائیکنگ کے بعد کچھ دیر سوئے جب آنکھ کھلی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مارموٹ اپنی گیلی زبان ان کے کان میں ڈال رہا تھا، جنہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ میں ڈر گیا تھا کیونکہ جب آپ جنگل میں سوتے ہیں تو یہ توقع ہرگز نہیں کرتے کہ کوئی آپ کو چاٹنے لگے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی ہائیکرز اپنا سامان بھی گنوا چکے ہیں، اسی طرح کی کہانی 66 سالہ جیف وائیٹ کی ہے، 31 سالہ نیتن گپتا نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے مارموٹ نے ان کی ہائیکنگ اسٹک چرا لی اور جب ان کی گرل فرینڈ نے اسے واپس لینے کی کوشش کی تو مارموٹ اس پر حملے کے لیے جھپٹا تھا۔نیتن گپتا نے کہا کہ میں نے تقریباً جنگ کے دوران ہونے والی للکار جیسی آواز سنی اور بالآخر ہمیں ہائیکنگ اسٹک واپس لینے کی کوشش ترک کرنا پڑی۔