ڈاکٹر جمشید نظر
کہتے ہیں انسان نے جب پہلی بار پتھر کو ہتھیار بنایا تو وہ اپنی حفاظت چاہتا تھا لیکن جب اس نے پہلا ایٹمی تجربہ کیا تو وہ اپنی تباہی کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ سولہ جولائی 1945ء کو نیو میکسیکو کے صحرا میں پہلا ایٹمی دھماکہ ہوا۔ سائنس دانوں نے جب آسمان کو شعلوں سے لپکتے اور زمین کو کانپتے دیکھا تو ایک امریکی سائنس دان نے سہمی آوازمیں کہا’’اب ہم نے موت کو آزاد کر دیا ہے۔‘‘اس ایک دھماکے کے بعد انسانیت کی تقدیر بدل گئی۔چند ہفتے بعدجاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی اس تقدیر کے پہلے گواہ بنے۔ لاکھوں لوگ لمحوں میں بھسم ہوگئے، ہزاروں نسلیں تابکاری کی لپیٹ میں آگئیں اور آج بھی وہاں معصوم بچے جسمانی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وہ زخم ہیں جو سات دہائیاں گزرنے کے باوجود مندمل نہ ہو سکے۔
اقوامِ متحدہ نے 2009ء میں ایک قرارداد کے ذریعے 29 اگست کو ’’یوم انسدادِ جوہری تجربات‘‘ قرار دیا۔اس سال یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں گزشتہ 80 برسوں کے دوران اب تک دو ہزار سے زائد ایٹمی دھماکے ہو چکے ہیں کبھی زمین کے اندر، کبھی سمندر کے نیچے اور کبھی فضا ء میں۔ ہر دھماکے کے بعد زمین کے ذرے ذرے نے کراہ کر کہا’’یہ میرا قتل ہے۔‘‘1996ء میں ’’جامع ایٹمی تجربات پر پابندی کا معاہدہ‘‘ (CTBT) لایا گیا۔ 187 ممالک نے دستخط کیے، 178 نے توثیق بھی کی لیکن آج تک یہ معاہدہ نافذ نہ ہو سکا۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 2018ء میں اپنے ایجنڈے’’Securing our Common Future‘‘میں کہا تھا کہ ایٹمی تجربات پر پابندی صرف تخفیفِ اسلحہ نہیں بلکہ عدم پھیلاؤ کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ ہتھیاروں کی دوڑ کو روکتا ہے اور دنیا کو ایک اخلاقی پیغام دیتا ہے کہ انسان اپنی بقا کے ساتھ جوا ء نہیں کھیلے گا۔
CTBT پر عمل درآمد کے لیے دنیا بھر میں ایک جدید انٹرنیشنل مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا گیا ہے جس کے 337 مراکز میں سے 306 پہلے ہی کام شروع کر چکے ہیں اور یہ دن رات ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ایٹمی دھماکے کو فوراً پکڑا جا سکے۔اقوامِ متحدہ کی امید یہی ہے کہ ایک دن دنیا مکمل طور پر ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو جائے گی۔ لیکن اس وقت تک ضروری ہے کہ ہر سال یوم انسدادِ ایٹمی تجربات منایا جائے تاکہ امن اور سلامتی کی جدوجہد جاری رہے۔
بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کرکے دنیا کو بتانے کی کوشش کی کہ وہ خطے کی عسکری طاقت ہے۔ یہ پہلا قدم تھا ایک ایسی دوڑ کا جس نے پورے جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں کے سائے میں دھکیل دیا۔ پاکستان نے اس وقت صبر کیا دنیا کو یقین دلایا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن بھارت نے یہ دوڑ جاری رکھی اور1998 میںیکے بعد دیگرے ایٹمی دھماکے کیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ ملک کے دفاع اور بقاء کے لیے پاکستان کو 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میںایٹمی دھماکے کرنا پڑے۔ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں ہے۔ ہماری قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ ایٹمی ہتھیار دفاع کے لیے ہیں، جارحیت کے لیے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار انسانیت کی تباہی کا ذریعہ ہیں اس لیے پاکستان نے کبھی سبقت لینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔
المیہ یہ ہے کہ بھارت آج بھی اسلحے کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد بڑھ رہی ہے، جدید میزائل سسٹمز تیار ہو رہے ہیں اور اربوں ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کی جارحانہ پالیسی خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بھارت شائداس حقیقت سے بے خبر ہے کہ جنوبی ایشیاء بارود کے ڈھیر پر رکھا ہوا ایک دیا سلائی ہے جسے جلانے کے لیے صرف ایک چنگاری کافی ہے۔بھارت نے جب بھی اپنی ضد اور جنون میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو یہ آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ہم امن کی بات کرتے ہیںلیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پھرپوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی اور ہمارا جواب صرف لفظوں میں نہیں ہوگا بلکہ ’’بنیان المرصوص‘‘ کی طرح اٹل، ناقابلِ تسخیر اور فیصلہ کن ہوگا۔