2 ماہ رہ گئے، ایک ارب روپے سے ایک پائی بھی جاری نہ ہو سکی
تاریخی عمارتوں کے مالکان کو 7 دن میں بحالی شروع کرنے کا حکم
لاہور (خصوصی رپورٹ )مال روڈ کی 104 تاریخی عمارتوں کی بحالی کا منصوبہ لٹک گیا، 1 ارب کے فنڈز جاری نہ ہو سکے۔پی ایم جی چوک سے چیئرنگ کراس تک عمارتوں کی تزئین و آرائش کے 80 کروڑ اور سڑک کی مرمت کے 20 کروڑ التوا کا شکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر اقتدار کے مال روڈ پر واقع برطانوی عہد کی تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش کا معاملہ لٹک گیا، مالی سال ختم ہونے میں دو ماہ رہ گئے ،ایک ارب روپے کی خطیر رقم کی ایک پائی بھی جاری نہ ہو سکی، 80کروڑ کے فنڈز سے عمارتوں کو لش پش کیا جانا تھا جبکہ 20کروڑ سے مال روڈ کو مکمل تیار کیا جانا تھا لیکن صورتحال گومگو کا شکار ہوئی تو افسران نے فنڈز نہ ملنے پر بحالی کا خرچہ مالکان پر ڈال دیا، 10 عمارتوں کو نوٹس جاری کر دئیے ،تاریخی عمارتوں کے مالکان کو 7 دن میں بحالی شروع کرنے کا حکم، ورنہ قانونی کارروائی ہو گی ، نوٹسز کے ساتھ خستہ حال عمارتوں کی تصاویر فائلوں تک محدود، وائٹ واش تک نہ ہو سکا۔برطانوی عہد کی عمارتوں کی تاریخی حیثیت بحال کی جائے گی،تاریخی عمارتوں بیرونی فساڈ یکساں بنایا جائے گا۔والڈ سٹی اتھارٹی تاریخی ورثے کی بحالی میں ضلعی انتظامیہ کو تکنیکی مدد فراہم کرے گی، ذرائع کے مطابق غلام رسول بلڈنگ، شاہ دین منزل، احمد مینشن سمیت 10 قدیم عمارتوں کی بحالی کا پہلے مرحلے میں شامل ، حکومت نے فنڈز جاری نہ کئے تاہم، مالکان اپنی جیب سے مال روڈ کا تاریخی حسن بحال کریں گے۔