مجرم کون ہے

روبینہ شاہین
وقت کس کے در کا دربان ہے حل ہر پل ہر گھڑی بدل جاتا ہے زندگی نشیب و فراز طے کرتی ہوئی دنوں مہینوں اور سالوں کا چکر مکمل کرتی ہے جانے کب کہاں کیسے حالات و واقعات بدل جائیں انسانوں کے دلوں کی داستانیں ہیں ماں سے زیادہ پیار دنیا میں کوئی نہیں کرتا اور اللہ کی محبت کی مثال انسانوں کے ساتھ 70 ماؤں کے پیار کے برابر دی گئی ہے مگر کیا ماں بی قاتل ہو سکتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر سکتی ہے یہ جیتی جاگتی مثال عشرہ میں ہونے والے واقعے وضاحت کے ساتھ پیش کی تین بچے پانچ سالہ مومنہ چار سالہ مومن اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ چھری کے ساتھ گردن کاٹ کر ذبح کر دیے گئے دن دہاڑے اور کسی ہمسائے کو بھی خبر نہ ہوئی کیا بچوں کی دلخراس چیخوں سے ماں کا دل دہلا نہیں کیا کلیجہ.  پھٹا نہیں کیا ہاتھ کانپے نہیں کیا انکھوں میں ایک بار بھی مامتا نہیں بھر ائی. کیا زندگی نے خوف نہیں کھایا جانوروں کی طرح ذبح کرتے ہوئے خدا یاد نہیں ایا ہوگا یہ بھی سوچ نہیں ائی ہوگی کہ جب قتل کا الزام ثابت ہوا تو کیا دنیا اور خدا کے اگے سرخرو ہو سکوں گی  جرم کبھی چھپتا نہیں حالات و واقعات چاہے کچھ بھی ہوں ماں تو ماں ہوتی ہے مگر شاید یہ تقدیریں ہیں جو ٹالی نہیں جا سکتی جنون اور جذبات انسانوں کو اندھا کر دیتے ہیں سامنے کچھ بھی نظر نہیں اتا غربت کے ہاتھوں تنگ تھی یا دوسری شادی کے لیے مجبور یہ تو اس عورت کے جذبات اور حالات ہی بتا سکتے ہیں وقت تو گزر جاتا ہے بعد میں صرف کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں. ہر کوئی مجبور بے بس اور بے قصور ثابت ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی کہانی بنا ہی لے گا اس طرح کی ایک بلڈنگ کے فلیٹ میں رہنے والی ردا نامی خاتون کی شادی سات سال پہلے رمضان نامی شخص سے ہوئی جنگ کے رہنے والے شادی کے بعد لاہور اس فلیٹ میں منتقل ہو گئے تین بچے پیدا ہوئے وقت گزرتا گیا چھ ماہ پہلے رمضان کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہونے. کی وجہ سے بستر پر چلا گیا اور گھر کے حالات تنگ ہو گئے غربت انے سے لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہو گیا زندگی کے دن رات بدلنے لگے ضروریات پوری کرنے کے لیے ردا کو نوکری کرنی پڑی مگر کیا غربت دودھ کرنے کے لیے بچوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے کیا انسانیت اور اس کی روح نہیں کام کی اور یہ ٹک ٹاک کی دوستیاں اتنی کامیاب ہوتی ہیں کہ ان کی خاطر اپنے ہی بچوں کے گلے کاٹ دیے جائیں شہریار نامی شخص جس کا تعلق جنگ سے ہی تھا اسی سے دوستی ہو گئی اور ردا اور شہر یعنی شادی کرنے کا پلان بنایا چھ ماہ کی تنگدستی نے نئے دنوں کی ابتدا کر دی خاوند اس کے گھر والے اور اپنے بچے دل سے ہی نہیں انکھوں سے بھی اتر گئے زندگی روز جینے سے پہلے مرنے لگی وقت خطرناک ہتھیار بن گیا بے رحم بھوک اور نوکری کرنے کی مشقت زہریلا ناک بن گئی ہر رشتہ تلوار کی نوک نظر اتا محبت.  تو دور رحم بھی نہیں رہا روزانہ کے جھگڑے معمول بن گئے اب زندگی ایک عذاب کی شکل بنتی جا رہی تھی اگر یہ بچے نہ ہوتے تو دوسری شادی کر لیتی بچے پالنا. مرد کے بس کی بات نہیں. غربت دور کرنے کے کئی طریقے ہیں مگر دل کی د دنیا بدلنے کا کوئی طریقہ نہیں کیا ساس زیور اور ردا کی نوکری گھر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں تھی کیا اس کے ذمہ دار حکمران ہیں. یا یا انسان کے حالات یا سوچ مجبور کرتی ہے زندگی میں کئی بار ایسا ہوا کہ باپ نے بچوں کو دریا میں دھکا دے دیا وجہ غربت تھی کسی نے نشا اور گولیاں کھلا کر بچے مار ڈالے بچہ غربت تھی بچوں کو چھت سے دھکا دے دیا وجہ غربت دی کیا حدیث میں جو ذکر اتا ہے وہ سچ ثابت ہو رہا ہے کہ اخری دور میں غربت کی وجہ سے انسان مار دیے جائیں گے انسانیت زندہ درگور ہو گئی ہے روٹی نہ ملے تو بچے مار دو مشکل وقت ا جائے تو دوسری شادی کر لو زندگی تو ازمائشوں اور مشکلات کا نام ہے برا وقت اتا ہے تو گزر بھی جاتا ہے اہل محلہ اور اہل علاقہ اس دردناک واقعے سے دہل گئے انکھوں کے اگے تینوں بچوں کی مسکراتی شکلیں گھومنے لگی اور وہ سنگ دل ماں جو ایک خونی درندہ بن چکی تھی بچوں کو ذبح کرنے کے بعد بھی پرسکون رہی مر کیوں نہیں گئی کیا بچوں کی قبروں پر شادی کی سیج سجائی جا سکتی ہے.  کیا کسائی کا کردار ادا کرنے کے بعد محبت زندہ رہتی ہے دل ہلا دینے والا واقعہ جب محبت مر جائے تو نفرت زندہ ہو جاتی ہے جب جذبے سکول نہ پائیں تو وحشت طاری ہو جاتی ہے جب جنون سر چڑھ جائے تو ہاتھ نہیں کانپتے ایسے ہی اس واقعے میں ہونے والے تینوں معصوم بچوں کی روح سوال کرتی رہیں گی کہ ماں ہمارا کیا قصور تھا شادی تو طلاق اور خلا کی بات کر کے بھی ہو سکتی ہے مگر انسانی قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہے صرف نفرت بے دردی بے حسی اور پاگل پن شامل ہوتا ہے کیا محبوب کی محبت ہی سب کچھ بن گئی کیا ماں کی محبت میں وزن نہیں رہا کب تک ہم ایسے قتل کیے  جانے والے جانے والے انسانوں کے خون کو بھوک اور غربت کا کفن پہناتے رہیں گے اپنے جرم چھپانے کے لیے غلط اور من گھڑت کہانیاں بناتے رہیں گے بدبودار چشموں پر خوشبوئیں انڈیلتے رہیں گے کب تک گندگی کے نالوں پر سلیبیں لگاتے رہیں گے خدارا اپ نے جذبوں میں درندگی نہ انے دے محبت بہت خوبصورت جذبہ ہے اس کو سنبھال کر رکھیے اپنے رشتوں کی حفاظت کیجئے وقت دوبارہ نہیں اتا زندگی ایک باری ملتی ہے اسے خدا کے شکرانے کے ساتھ گزاریے ورنہ قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دیں گے بچوں کو ذبح کرنے والی ماں دوبارہ شادی کر سکے گی یا محبت کی سید سجا سکے گی نہیں جب تک زندہ ہے صرف پچھتاوا ہی زندگی کا حصہ رہے گا اور شاید توبہ بھی قبول نہ ہو خدا ہم سب کی حفاظت کرے امین.گئی ہے مگر کیا ماں بی قاتل ہو سکتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر سکتی ہے یہ جیتی جاگتی مثال اچھرہ  میں ہونے والے واقعے نے وضاحت کے ساتھ پیش کی تین بچے پانچ سالہ مومنہ چار سالہ مومن اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ چھری کے ساتھ گردن کاٹ کر ذبح کر دیے گئے دن دہاڑے اور کسی ہمسائے کو بھی خبر نہ ہوئی کیا بچوں کی دلخراش چیخوں سے ماں کا دل دہلا نہیں کیا کلیجہ.  پھٹا نہیں کیا ہاتھ کانپے نہیں کیا انکھوں میں ایک بار بھی مامتا نہیں بھر ائی. کیا زندگی نے خوف نہیں کھایا جانوروں کی طرح ذبح کرتے ہوئے خدا یاد نہیں ایا ہوگا یہ بھی سوچ نہیں ائی ہوگی کہ جب قتل کا الزام ثابت ہوا تو کیا دنیا اور خدا کے اگے سرخرو ہو سکوں گی  جرم کبھی چھپتا نہیں حالات و واقعات چاہے کچھ بھی ہوں ماں تو ماں ہوتی ہے مگر شاید یہ تقدیریں ہیں جو ٹالی نہیں جا سکتی جنون اور جذبات انسانوں کو اندھا کر دیتے ہیں سامنے کچھ بھی نظر نہیں اتا غربت کے ہاتھوں تنگ تھی یا دوسری شادی کے لیے مجبور یہ تو اس عورت کے جذبات اور حالات ہی بتا سکتے ہیں وقت تو گزر جاتا ہے بعد میں صرف کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں. ہر کوئی مجبور بے بس اور بے قصور ثابت ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی کہانی بنا ہی لے گا اچھرہ کی ایک بلڈنگ کے فلیٹ میں رہنے والی ردا نامی خاتون کی شادی سات سال پہلے رمضان نامی شخص سے ہوئی جھنگ کے رہنے والے شادی کے بعد لاہور کے 
اس فلیٹ میں منتقل ہو گئے تین بچے پیدا ہوئے وقت گزرتا گیا چھ ماہ پہلے رمضان کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہونے.جس کی وجہ سے بستر پر چلا گیا اور گھر کے حالات تنگ ہو گئے غربت انے سے لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہو گیا زندگی کے دن رات بدلنے لگے ضروریات پوری کرنے کے لیے ردا کو نوکری کرنی پڑی مگر کیا غربت دور کرنے کے لیے بچوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے کیا انسانیت اور اس کی روح نہیں کانپی  اور یہ ٹک ٹاک کی دوستیاں اتنی کامیاب ہوتی ہیں کہ ان کی خاطر اپنے ہی بچوں کے گلے کاٹ دیے جائیں شہریار نامی شخص جس کا تعلق ج?نگ  سے ہی تھا اس سے دوستی ہو گئی اور ردا اور شہر یعنی شادی کرنے کا پلان بنایا چھ ماہ کی تنگدستی نے نئے دنوں کی ابتدا کر دی خاوند اور اس کے گھر والے اور اپنے بچے دل سے ہی نہیں انکھوں سے بھی اتر گئے زندگی روز جینے سے پہلے مرنے لگی وقت خطرناک ہتھیار بن گیا بے رحم بھوک اور نوکری کرنے کی مشقت زہریلا ناگ  بن گئی ہر رشتہ تلوار کی نوک نظر اتا محبت.  تو دور رحم بھی نہیں رہا روزانہ کے جھگڑے معمول بن گئے اب زندگی ایک عذاب کی شکل بنتی جا رہی تھی اگر یہ بچے نہ ہوتے تو دوسری شادی کر لیتی بچے پالنا. مرد کے بس کی بات نہیں. غربت دور کرنے کے کئی طریقے ہیں مگر دل کی  دنیا بدلنے کا کوئی طریقہ نہیں کیا ساس د یور اور ردا کی نوکری گھر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں تھی کیا اس  واقعہ کے ذمہ دار حکمران ہیں.  یا انسان کے حالات یا سوچ مجبور کرتی ہے زندگی میں کئی بار ایسا ہوا کہ باپ نے بچوں کو دریا میں دھکا دے دیا وجہ غربت تھی کسی نے نشہ اور گولیاں کھلا کر بچے مار ڈالے وجہ غربت تھی بچوں کو چھت سے دھکا دے دیا وجہ غربت دی کیا حدیث  پاک میں جو ذکر اتا ہے وہ سچ ثابت ہو رہا ہے کہ اخری دور میں غربت کی وجہ سے انسان مار دیے جائیں گے انسانیت زندہ درگور ہو گئی ہے روٹی نہ ملے تو بچے مار دو مشکل وقت ا جائے تو دوسری شادی کر لو زندگی تو ازمائشوں اور مشکلات کا نام ہے برا وقت اتا ہے تو گزر بھی جاتا ہے اہل محلہ اور اہل علاقہ اس دردناک واقعے سے دہل گئے انکھوں کے اگے تینوں بچوں کی مسکراتی شکلیں گھومنے لگی اور وہ سنگ دل ماں جو ایک خونی درندہ بن چکی تھی بچوں کو ذبح کرنے کے بعد بھی پرسکون رہی مر کیوں نہیں گئی کیا بچوں کی قبروں پر شادی کی سیج سجائی جا سکتی ہے.  کیا  قصائی کا کردار ادا کرنے کے بعد محبت زندہ رہتی ہے دل ہلا دینے والا واقعہ جب محبت مر جائے تو نفرت زندہ ہو جاتی ہے جب جذبے سکون نہ پائیں تو وحشت طاری ہو جاتی ہے جب جنون سر چڑھ جائے تو ہاتھ نہیں کانپتے ایسے ہی اس واقعے میں ہونے والے تینوں معصوم بچوں کی روح سوال کرتی رہیں گی کہ ماں ہمارا کیا قصور تھا شادی تو طلاق اور خلاء￿  کے بعد بھی ہو سکتی ہے مگر انسانی قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہے صرف نفرت بے دردی بے حسی اور پاگل پن شامل ہوتا ہے کیا محبوب کی محبت ہی سب کچھ بن گئی کیا ماں کی محبت میں وزن نہیں رہا کب تک ہم ایسے قتل کیے  جانے والے جانے والے انسانوں کے خون کو بھوک اور غربت کا کفن پہناتے رہیں گے اپنے جرم چھپانے کے لیے غلط اور من گھڑت کہانیاں بناتے رہیں گے بدبودار چشموں پر خوشبوئیں انڈیلتے رہیں گے کب تک گندگی کے نالوں پر سلیبیں لگاتے رہیں گے خدارا اپ نے جذبوں میں درندگی نہ انے دیں  محبت بہت خوبصورت جذبہ ہے اس کو سنبھال کر رکھیے اپنے رشتوں کی حفاظت کیجئے وقت دوبارہ نہیں اتا زندگی ایک بارہی ملتی ہے اسے خدا کے شکرانے کے ساتھ گزاریے ورنہ قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دیں گے بچوں کو ذبح کرنے والی ماں دوبارہ شادی کر سکے گی یا محبت کی س?ج سجا سکے گی نہیں جب تک زندہ ہے صرف پچھتاوا ہی زندگی کا حصہ رہے گا اور شاید توبہ بھی قبول نہ ہو خدا ہم سب کی حفاظت کرے امین.


روبینہ شاہین