مجرم کون نہیں

سردار حیدر احمد علی 
عض واقعات خبریں نہیں ہوتے، فردِ جرم ہوتے ہیں۔ چکوال میں نو سالہ بچی کی موت بھی ایک خبر نہیں، ایک سوال ہے۔ ایسا سوال جس کا جواب صرف ایک پولیس اہلکار، ایک محکمہ یا ایک حکومت نہیں دے سکتی۔ یہ سوال پورے نظام کے گلے میں لٹکا ہوا وہ پتھر ہے جسے سب دیکھ رہے ہیں مگر کوئی اٹھانے کو تیار نہیں۔کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو پھر چکوال میں ایک ماں نے اپنی ہی بچی کو کیوں کھو دیا؟ آخر ایسا کیا ہوا کہ قانون کے محافظوں کی گولی ایک معصوم وجود کے سینے تک جا پہنچی؟ کیا یہ صرف ایک غلطی تھی؟ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا؟ یا پھر یہ اس پورے نظام کی ذہنی ساخت کا نتیجہ ہے جس میں طاقت تو بہت ہے مگر ذمہ داری بہت کم؟پاکستان میں المیہ یہ نہیں کہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا جاتا۔ ہر سانحے کے بعد چند چہروں پر افسوس، چند بیانات، چند کمیٹیاں اور پھر خاموشی۔ گویا انسانی جان نہیں، کسی دفتر کی فائل گم ہوئی ہو۔مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ اس ملک میں سب کچھ سستا ہے مگر سب سے سستی چیز انسان کی جان ہے۔ سڑک پر مر جائے، ہسپتال میں مر جائے، تھانے میں مر جائے یا کسی سرکاری اہلکار کی گولی سے مر جائے، چند دن شور مچتا ہے اور پھر سب معمول پر آ جاتا ہے۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اصل مسئلہ ایک گولی نہیں، وہ ذہن ہے جو گولی چلانے سے پہلے سوچتا نہیں۔ وہ نظام ہے جو وردی تو دیتا ہے مگر بصیرت نہیں دیتا۔ وہ ماحول ہے جو اختیار تو دیتا ہے مگر جوابدہی نہیں دیتا۔ دنیا کی مہذب ریاستوں میں بندوق آخری آپشن ہوتی ہے، ہمارے ہاں اکثر پہلا ردِعمل بن جاتی ہے۔چکوال کا واقعہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں صرف ایک اہلکار نظر نہیں آتا، پوری ریاست نظر آتی ہے۔ تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ احتساب کی کمزوری نظر آتی ہے۔ اداروں کی بے حسی نظر آتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ اجتماعی رویہ نظر آتا ہے جس میں ہر سانحہ چند دن بعد پرانی خبر بن جاتا ہے۔ذرا سوچئے، ایک خاندان ہزاروں میل دور سے اپنے وطن آیا۔ شاید اس یقین کے ساتھ کہ یہ ان کی مٹی ہے، ان کا گھر ہے، ان کی شناخت ہے۔ لیکن وطن نے ان کا استقبال گولی سے کیا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ ایک باپ اپنی بیٹی کی لاش اٹھائے کھڑا ہو اور ریاست اسے یقین دلانے کی کوشش کرے کہ انصاف ہو گا۔ انصاف؟ وہ انصاف جو ہمیشہ سانحے کے بعد جاگتا ہے؟ہم عجیب قوم ہیں۔ ہم ترقی کی بات کرتے ہیں مگر انسانی جان کے احترام پر گفتگو سے گھبراتے ہیں۔ ہم بلند عمارتوں پر فخر کرتے ہیں مگر کمزور بنیادوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ریاستوں کی عظمت موٹرویز، میٹروز اور عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ ریاست کی عظمت اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہاں ایک عام شہری خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر ادارے اپنی غلطیوں سے زیادہ اپنی ساکھ بچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ ساکھ سچائی سے بنتی ہے، پردہ پوشی سے نہیں۔ اگر کوئی اہلکار قصوروار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ اگر نظام میں خرابی ہے تو اسے درست ہونا چاہیے۔ اگر تربیت ناقص ہے تو اسے بدلنا چاہیے۔ ورنہ اگلی گولی بھی کسی معصوم کو ہی لگے گی۔

چکوال میں مرنے والی بچی اب واپس نہیں آئے گی۔ اس کی ہنسی، اس کے خواب، اس کا مستقبل سب دفن ہو چکا۔ لیکن سوال ابھی زندہ ہے۔ وہ سوال جو ہر پاکستانی سے جواب مانگ رہا ہے۔ کیا اس ملک میں انسانی جان واقعی مقدس ہے یا صرف تقریروں میں مقدس ہے؟ کیا قانون عوام کی حفاظت کے لیے ہے یا عوام قانون سے بچنے کے لیے دعائیں مانگتے رہیں؟

تاریخ کا ایک اصول ہے: قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں مرتیں، غلطیوں پر اصرار سے مرتی ہیں۔ اگر چکوال کا یہ سانحہ بھی صرف ایک خبر بن کر رہ گیا، اگر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ گیا، اگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ یہ گولی چلی کیوں، تو پھر سمجھ لیجیے کہ مسئلہ ایک واقعہ نہیں، پورا نظام ہے۔

اور جب نظام بیمار ہو جائے تو حادثے نہیں ہوتے، سانحات جنم لیتے ہیں۔

چکوال میں ایک بچی مری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ساتھ ریاست کی اخلاقی ساکھ کا ایک حصہ بھی دفن ہو گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قبر صرف بچی کی بنتی ہے یا اس بے حسی کی بھی جو برسوں سے ہمارے اجتماعی ضمیر پر مسلط ہے