وزیراعظم شہباز شریف کے غزہ سے متعلق دل سوز الفاظ، ریاست فلسطین نے نمایاں کردیے

فلسطینی بچوں کی شہادت کا ذکر، وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے غزہ کے بچوں کے حقِ زندگی کا سوال اٹھایا
 نیویارک( آن لائن )ریاست فلسطین نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’اسٹیٹ آف فلسطین‘‘ پر وزیراعظم شہباز شریف کے غزہ اور فلسطینی عوام سے متعلق خطاب کے اہم حصے نمایاں کیے ہیں۔ریاست فلسطین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں کو درپیش مشکلات اور مصائب کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا، جبکہ فلسطینی بچوں کی المناک شہادتوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فلسطین کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نسل در نسل فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو قبضے، بے دخلی، مصائب اور موت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وزیراعظم نے فلسطینی بچی ہند رجب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس انہوں نے ایک معصوم فلسطینی بچی کی دل دہلا دینے والی داستان دنیا کے سامنے بیان کی تھی، جسے ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے گولی مار کر قتل کیا۔شہباز شریف نے آٹھ سالہ فلسطینی بچی وفا عقیلہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کی ماں کی سسکتی ہوئی چیخیں ایک ایسے سانحے کی عکاسی کرتی ہیں جس میں بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس دن وفا عقیلہ کے لیے اسکول کا پہلا دن ہونا چاہیے تھا، افسوس کہ وہ اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے سوال اٹھایا کہ کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی دنیا کے کسی دوسرے خطے میں پیدا ہونے والے بچے کی طرح زندگی، مستقبل اور اپنے خوابوں کی تکمیل کا حق نہیں رکھتا؟انہوں نے کہا کہ ہند رجب، وفا عقیلہ اور دیگر فلسطینیوں کے سانحات تاریخ میں عالمی برادری کی خاموشی، ناکامی اور بے عملی کے خلاف سوال بن کر گونجتے رہیں گے۔