امداد سب کو ملے گی ایسا نہیں کہ صرف مالکانہ حقوق والوں کو ملے گی ،مجتبیٰ شجاع
دوسری بار کورم پورا نہ ہوا، اجلاس ملتوی ،پوسٹ بجٹ بحث کا آغاز نہ ہو سکا
لاہور(خصوصی رپورٹ)حکومت پنجاب مسلسل 2 روز حکومتی بینچ بھر نہ سکی، پنجاب اسمبلی کا اجلاس مسلسل دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا ،2 روز سے نہ تو پوسٹ بجٹ بحث کا آغاز ہو سکا، نہ ہی اہم قانونی مسودے پیش ہو سکے۔ ایوان میں سیلاب متاثرین کو بلا تفریق امداد نہ ملنے پر ارکان اسمبلی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ کو ہدایت کی کہ بروقت اور بلا تفریق امداد ملنا یقینی بنایا جائے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے دس منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر مسلم لیگ ن کے رکن خالد محمود وارن نے سیلاب متاثرین کے لئے حکومتی امداد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہاولپور کے علاقے احمد پور میں حکومتی مالی امداد کے لئے سروے جاری ہے۔ میرے حلقے احمد پور میں جن لوگوں کے پاس زمین کے کاغذات نہیں انکو مالی امداد سے منع کر دیا گیا۔ ایوان اور وزیر اعلیٰ سے التجا ہے کے غریب لوگوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت ہے کہ جو ریور بیڈ پر موجود ہیں ان کو الگ زمین دی جائے اور مالی امداد کی جائے۔ امداد سب کو ملے گی ایسا نہیں ہے کے صرف مالکانہ حقوق والوں کو ملے گا،گھروں کے لئے 5 سے 10 لاکھ دیا جائے گا،جن کی زمینیں گئی ہیں ان کو بھی معاوضہ ملے گا،جن کے جانور گئے ہیں ان کو بھی معاوضہ ملے گا،میں پھر بھی میں متعلقہ ادارے سے پوچھ کر معزز رکن کو آگاہ کروں گا، اپوزیشن رکن رانا شہباز نے کہا کہ میری تحصیل میں سیلاب متاثرین سے متعلق غیر منصفانہ سروے کر رہے ہیں۔پٹواری تحصیلدار من پسند زمینداروں کو سروے میں شامل کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو خاص طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے تحریک التوائے کے جوابات نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک التوائے کار کے جوابات چھ ماہ بعد ہی محکمے نے بھیجنے ہیں؟۔ رکن اسمبلی امجد علی جاوید کا کہنا تھا کہ بات ایسے نہیں ہے وزیر کی باتیں آپس میں ملتی نہیں۔ معاملہ جو محکمہ خزانہ پر بوجھ ڈالے بغیر حل ہوتا ہے تو حل کر لیں۔ملازمین ریٹائرمنٹ کی انشورنس کے لئے تیار ہیں تو محکمہ خزانہ کو کیا اعتراض ہے۔اجلاس آج دوپہر 2 بجے کے لئے ملتوی کر دیا۔