میانمار کی فوجی حکومت کا ہزاروں قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ

 ینگون(آئی این پی )میانمار کی فوجی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ و ہ 8,665 افراد کے خلاف مقدمات ختم کرے گی یا انہیں معاف کرے گی، جس سے یہ افراد آئندہ ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔ مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان انتخابات کو جعلی قرار دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے  کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت نے ان افراد کے خلاف اقدامات کیے ہیں جو دفاعی یا سیاسی بیانات کے الزام میں سیکشن 505A کے تحت سزا یافتہ تھے۔ اس اقدام میں 3,085 افراد کی سزا میں کمی کی گئی، جبکہ 5,580 افراد کے خلاف مقدمات ختم کر دیے گئے جو ابھی بھی آزاد ہیں۔یہ واضح نہیں کہ ان میں کتنے لوگ سیاسی قیدی ہیں اور ان کی رہائی کب عمل میں آئے گی۔فوجی حکومت کے ترجمان زاو من ٹن نے  معافی کے اعلان سے قبل کہا کہ یہ اقدامات تمام اہل ووٹروں کو آزادانہ اور شفاف طریقے سے ووٹ ڈالنے میں مدد دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ اس فوجی بغاوت میں نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کو ہٹا دیا گیا تھا اور وہ اس وقت سے حراست میں
 ہیں۔