محمدفاروق سپرا
زندگی سہل پسندی میں بسر کر لینا
کار دشواربھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا
آسانی اور سہولت کی تلاش ہمیشہ انسان کی فطرت میں رہی ہے۔اسی جستجو نے ٹیکنالوجی اور سہولیات کے اس جدید دور کو جنم دیا ہے۔ نئی ایجادات نے ہماری زندگیوں کو حیرت انگیز طور پر آسان بنا دیا ہے، آسائشوں کی کثرت نے ہماری حرکت و محدود کر دیا ہے۔، یہی سہولتیں اب ایک دو دھاری تلوار بن چکی ہیں، جو ہماری صحت اور معاشرت پر گہرے اور تشویشناک منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا منفی اثر یہ ہے کہ اس نے ہمیں سہل پسندی اور جسمانی مشقت سے گریز کی عادت ڈال دی ہے۔ جسمانی مشقت میں کمی کئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔دفتر ہو یا گھر، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کی عادت نے ہمیں امراضِ قلب، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے جیسے غیر متعدی امراض کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔جنک فوڈاور غیر فعال طرزِ زندگی کی وجہ سے نظامِ ہاضمہ کے مسائل ام ہو گئے ہیں۔ذہنی تناؤ اور بے چینی: ٹیکنالوجی نے ہمیں حقیقی دنیا سے کاٹ کر سائبر دنیا کا اسیر بنا دیا ہے۔ سماجی رابطوں کی کمی، آن لائن موازنہ، اور مستقل ڈیجیٹل مصروفیت نوجوانوں اور بچوں میں ڈپریشن، پریشانی، اور اکیلا پن جیسے نفسیاتی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔رات گئے تک سکرین کا استعمال نیند کے دورانیے اور معیار کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس سے ذہنی ارتکاز اور جسمانی تندرستی متاثر ہوتی ہے۔اگرچہ ٹیکنالوجی نے کام آسان کیا ہے، لیکن ہر وقت دستیابی کے دباؤ نے ذہنی تناؤ کو بڑھا دیا ہے، جس کے جسمانی اور دماغی دونوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی، آسائشیں اور سہولیات کے استعمال کے ہماری معاشرت پر منفی اثرات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سہولتیں ہمیں جسمانی طور پر قریب ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر جدا کر رہی ہیں۔گرچہ موبائل اور انٹرنیٹ نے دنیا کو قریب کیا ہے، لیکن اس کے غیر ضروری استعمال نے گھروں کے اندر ہی خاندانی روابط کو کمزور کر دیا ہے۔ ایک ہی چھت تلے بیٹھ کر بھی افراد ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے بجائے اپنی سکرینوں میں مگن رہتے ہیں۔ اس سے اجنبی پن اور بے دلی پیدا ہوتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں حقیقی زندگی میں آمنے سامنے بات چیت کرنے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے بات کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں، جو ان کے اعتماد اور سماجی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی آزادی اور بے لگام استعمال نے اخلاقی اقدار اور شرافت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ غیر اخلاقی مواد تک آسان رسائی نے معاشرے میں بے حیائی اور فحش رجحانات کو فروغ دیا ہے، جس سے اخلاقیات اور انسانیت کی قدریں کمزور پڑ رہی ہیں۔کثیر القومی کمپنیوں کی اشتہاری مہمات نے انسان کی فطری کمزوری، یعنی خواہشِ نفس کو ابھار کر اسے ضرورت سے زیادہ آسائش اور نمائش کی طرف مائل کیا
ے۔ اس سے غیر ضروری خریداری، اسراف اور عدم قناعت کا کلچر عام ہوا ہے، جو معاشرے میں معاشی عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے۔ٹیکنالوجی اور آسائشیں بذاتِ خود بری نہیں ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے، "چیزیں بری نہیں ہوتیں جبکہ ان کے استعمال کرنے کے پیچھے ہماری سوچ اچھی یا بری ہوتی ہے"۔ دراصل مسئلہ متوازن اور بامقصد استعمال کا ہے۔
ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں جسمانی مشقت کو ایک بنیادی ضرورت بنائے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی واک، ورزش یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی لازمی ہو۔ یہاں تک کہ گھر کے کام کاج کو بھی مشقت کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کرتے ہوئے فٹنس ٹریکر ایپس، ورزش کی ویڈیوز، اور صحت سے متعلقہ معلوماتی پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھائیں۔ ہر فرد، بالخصوص بچوں، کے لیے ایک مقررہ سکرین ٹائمقرر کیا جائے اور رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل تمام سکرینز سے گریز کیا جائے۔گھر میں، خاص طور پر کھانے کی میز اور سونے کے کمرے کو ٹیکنالوجی فری زون قرار دیا جائے تاکہ خاندانی بات چیت اور تعلقات کو فروغ ملے۔ محض پاس بیٹھنے کے بجائے، خاندان اور دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، جس میں حقیقی مکالمہ، تفریح اور سرگرمیاں شامل ہوں۔
یکنالوجی کا استعمال صرف علم، تعلیم، کاروبار، اور سماجی بھلائی جیسے بامقصد کاموں کے لیے کریں۔ غیر ضروری گیمنگ اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے پرہیز کریں۔ بچوں کو بچپن سے ہی قناعت، شکر گزاری، اور اخلاقیات کی تعلیم دیں۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ زندگی کی حقیقی خوشی مادیت اور آسائشوں میں نہیں، بلکہ اطمینان اور اچھے تعلقات میں ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی خدمت اور حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے تاکہ معاشرتی تعلقات گہرے ہوں۔
ٹیکنالوجی اور آسائشیں کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کا لازمی جزو ہیں۔ ان کا منفی یا مثبت ہونا ان کے استعمال پر منحصر ہے۔ یہ ہمیں مشین بنا سکتی ہیں، یا ہمیں انسانیت کی معراج تک پہنچا سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہوشمندی، اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ہمیں ٹیکنالوجی کا آقا بننا ہے، نہ کہ غلام۔ اگر ہم اپنی جسمانی و ذہنی صحت کو ترجیح دیں گے اور اپنے خاندانی و سماجی رشتوں کی آبیاری کریں گے، تو یہ سہولتیں ہمارے لیے رحمت بن جائیں گی، ورنہ یہ ہماری صحت اور معاشرے کو مزید بگاڑ کا شکار کرتی رہیں گی۔