کراچی: موسم کی پیش گوئی اور دیگر اہم موسمی اپ ڈیٹس

کراچی: موسم کی پیش گوئی اور دیگر اہم موسمی اپ ڈیٹس

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اگلے تین دن کے دوران موسم معتدل رہنے کی توقع ہے، اور صبح کے وقت دھند چھا سکتی ہے۔

 محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق ہفتے کو کم سے کم درجہ حرارت ایک سے دو ڈگری کمی کے ساتھ 18 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک مغربی ہواوں کا سلسلہ آج شام یا رات کو بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے اثرات سے جمعے کی رات اور ہفتے کو قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور شکارپور اضلاع میں ہلکی بارش اور بوندا باندی ہو سکتی ہے۔

لاہور: دوسری جانب، لاہور پاکستان کے سب سے آلودہ شہر میں بدستور سر فہرست رہا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 600 سے 1100 تک ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور میں اووسط ایئر کوالٹی انڈیکس 622 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس کی صورت حال کچھ اس طرح رہی:

پولو گراؤنڈ کینٹ میں 1129
شملہ پہاڑی میں 1055
سید مراتب علی روڈ پر 925
سندر رائیونڈ پر 830
جوہر ٹاؤن میں 815
خیبر پختونخوا: محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند اور اسموگ چھائی رہنے کا امکان ہے۔ پشاور شہر کا درجہ حرارت 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔ صوبے میں کم سے کم درجہ حرارت درج ذیل رہا:

دیر میں 1 ڈگری سینٹی گریڈ
کالام میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ
مالم جبہ، کاکول اور بالاکوٹ میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ
پاراچنار میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ
بنوں میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ
چترال میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ
ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ
بلوچستان: بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم شام کے وقت مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں کم سے کم درجہ حرارت درج ذیل رہا:

زیارت میں 1 ڈگری سینٹی گریڈ
کوئٹہ اور ژوب میں 4 ڈگری سینٹی گریڈ
قلات میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ
چمن میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ
سبی میں 14 ڈگری سینٹی گریڈ
نوکنڈی میں 15 ڈگری سینٹی گریڈ
تربت میں 18 ڈگری سینٹی گریڈ
گوادر میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ
جیوانی میں 24 ڈگری سینٹی گریڈ
یہ موسمی تبدیلیاں عوام کے لیے مختلف علاقوں میں سرد موسم، دھند، اور ابر آلود حالات کا سبب بن سکتی ہیں، لہذا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوگا۔