احمد خان اچکزئی
محترم قارئین! روایتی اخوت کی راکھ اور منظم سازشوں کا منصوبہ تاریخ کے صفحات جب بھی خطہ? گلستان کا ذکر کریں گے، وہ اسے محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ پشتون ولی، اخوت اور قبائلی ہم آہنگی کے ایک مثالی گلدستے کے طور پر یاد رکھیں گے۔ لیکن آج جو منظرنامہ ہمارے سامنے ہے، وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ گلستان کے حالات کو اگر گہرائی سے سمجھنا ہے تو اسے "گریٹ گیم" کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، جسے امریکی آمد سے پہلے کے سیٹلمنٹ کو سمجھ کر ہی پرکھا جا سکتا ہے۔ تقسیمِ ہند اور پھر عالمی طاقتوں کی اس خطے میں مداخلت سے پہلے، گلستان میں آباد اقوام چار دہائیوں سے انتہائی اخوت اور یگانگت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب سرحدیں دلوں کے درمیان نہیں لکیروں کے درمیان ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اتحاد کے مراکز مادی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی تھے۔ تحصیل کا بازار ان کا وہ مرکزی نقطہ تھا جہاں زندگی کی چہل پہل سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی تھی۔ چاروں اطراف سے قبائل جوق در جوق بسوں، سائیکلوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل اس مرکز کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ چائے کے ایک درجن کے قریب ہوٹلوں میں سبز سلیمانی اور شیر چائے کے دھوئیں میں چھپی خوش گپیاں صرف باتیں نہیں بلکہ عہدِ وفا تھیں۔ وہاں ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک آدمی چائے کے پیسے دیتا، دوسرے دن دوسرا، اور اس طرح گروہ کا ہر فرد اپنی باری پر میزبانی کا حق ادا کرتا۔ اس ایک پیالے میں دولنگی، نورک، سلیمان خیل، گلستان، عنایت اللہ کاریز، عبدالرحمان زئی، سیگئی، شمشوزئی اور حبیب زئی جیسی تمام اقوام کی دوستی کے بندھن بندھتے تھے۔گلستان کی اس قدیم اور مستحکم سماجی ساخت کی دوسری بڑی علامت "گلستان سکول" تھا، جو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ علاقے کی تمام اقوام کی دوستی اور اخوت کا گہوارہ تھا۔ یہاں سے نکلنے والی نسلیں ایک دوسرے کے قبیلے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے علم اور کردار سے واقف ہوتی تھیں۔ اسی طرح "سول ہسپتال" قبائلی بندھن کی تیسری کڑی تھی جہاں دکھ، درد اور بیماری کے لمحات میں مختلف قبائل کے لوگ ایک دوسرے کی غم گساری کرتے اور انسانی ہمدردی کا وہ رشتہ استوار کرتے جو سیاسی مفادات سے بالاتر تھا۔ چوتھی علامت وہ "مسجد" تھی جس کے احاطے میں بازار آنے والے لوگ کچھ دیر سستاتے، نماز ادا کرتے اور پھر روحانی بالیدگی لے کر اپنے گاؤں کی راہ لیتے۔ یہ ایک ایسا خود کفیل اور پرامن سماجی ڈھانچہ تھا جسے توڑنا کسی بیرونی قوت کے لیے ناممکن تھا، جب تک کہ اسے اندر سے کھوکھلا نہ کیا جاتا۔مگر پھر تاریخ نے پلٹا کھایا اور ایک ایسی افتاد آن پڑی کہ بھائی بھائی کا دشمن بن گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سازش تھی جس کے تحت قبائل کے منظم ڈھانچے کو توڑ کر اسے ایک بے روح جسامت کی شکل دے دی گئی۔ دشمنیوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے ہنستے بستے گھروں کو قبرستانوں میں بدل دیا۔ سلیمان خیل اور سیگئی کی دشمنی سے شروع ہونے والا یہ سفر سیدوں کی آپسی دشمنی تک جا پہنچا۔ حاجی عباس حبیب زئی اور حاجی افضل سلیمان خیل کے درمیان تصادم ہو یا غبیزئی اور شمشوزئی کا قضیہ، عبدالرحمان زئی اور احمد خیل کی جنگ ہو یا غبیزئی اور محمود خان کی دشمنی، اور پھر سیگی اور شمشوزئی کے مابین خونی معرکے یہ سب اس بڑی منصوبے کے مہرے تھے جو کہیں دور بیٹھ کر ہلا رہے تھے۔ ان دشمنیوں نے نہ صرف انسانی جانیں نگلیں بلکہ اس اخوت کو بھی ذبح کر دیا جو گلستان کی پہچان تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت کے "طاقتور دستِ آہن" کے باوجود علاقے میں امن قائم نہ ہو سکا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یا تو ارادہ مفقود تھا یا پھر بے امنی ہی مقصود تھی۔ آج ہر قوم کسی نہ کسی کمانڈر کے رحم و کرم پر ہے اور قبائلی سرداری کا وقار مسلح جتھوں کی نذر ہو چکا ہے۔ان حالات کا موازنہ اگر افغانستان کے 1993-94 کے دور سے کیا جائے تو مماثلت حیران کن اور لرزہ خیز ہے۔ اس وقت افغانستان میں ہر پانچ کلومیٹر پر ایک پھاٹک ہوتا تھا جہاں لوگوں کی تذلیل کی جاتی اور ان سے پیسے بٹورے جاتے تھے۔ اس انتشار کے نتیجے میں ان پر ایسے عناصر مسلط کرائے گئے جنہوں نے پورے افغانستان سے اسلحہ اکٹھا کیا، اور جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تو پورا ملک دفاعی لحاظ سے اپاہج اور اسلحے سے خالی ہو چکا تھا۔ گلستان میں بھی بالکل یہی فارمولا آزمایا جا رہا ہے۔ یہاں کی مقامی طاقت، قبائلی یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو داخلی جنگوں کے ذریعے کمزور کر کے اسے زیر کرنے کے آخری مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال "پری امریکن سیٹلمنٹ" کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جہاں پہلے زمین کو بنجر اور قوم کو بے بس کیا جاتا ہے تاکہ بعد میں آنے والا فاتح اسے تر نوالہ سمجھ کر ہضم کر لے۔ اگر آج بھی گلستان کے اکابرین اور نوجوانوں نے اس سازش کو نہ سمجھا اور اپنی صفوں میں دوبارہ وہی "چائے کے ہوٹل والی اخوت" پیدا نہ کی، تو مستقبل کا مورخ ہمیں صرف ایک شکست خوردہ داستان کے طور پر یاد رکھے گا۔ گلستان کو بچانے کا واحد راستہ اپنی جڑوں کی طرف واپسی اور ان مصنوعی دشمنیوں کے بتوں کو توڑنا ہے جو ہماری بقاء کے دشمن ہیں۔