ثمرعباس لنگاہ
رمضان المبارک محض ایامِ صیام کا سلسلہ نہیں بلکہ تطہیرِ نفس اور تجدیدِ روح کا وہ نورانی موسم ہے، جس میں قلب کی زمین پر بندگی کے گلاب کھلتے ہیں، ضبطِ نفس کے نخل لہلہاتے ہیں اور عبادت کی گھٹائیں رحمتِ الٰہی کی رِم جِھم برسات کر کے دل کی بنجر زمین کو زرخیز کر دیتی ہیں۔
جب ایک روزہ دار صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک بھوک اور پیاس کی تپش میں جلتا ہے، جب اس کی زبان خشک، حلق پیاس سے چٹخ رہا ہوتا ہے مگر اس کے لبوں پر شکوہ کے بجائے شکر کے ترانے ہوتے ہیں، تب وہ حقیقتاً ایک ایسی سرشاری محسوس کرتا ہے جو کسی ظاہری خوشی کی محتاج نہیں۔
پھر جب یہ روحانی سفر لیل? الجائزہ تک آن پہنچتا ہے، جب مغفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں اور جب عرشِ الٰہی سے ندا دی جاتی ہے "ہے کوئی مانگنے والا کہ میں عطا کروں؟"
تب وہ خوش نصیب، جو سحریوں میں آنکھوں کے دریچے نم کر چکا ہوتا ہے، جو شب کی تاریکی میں اپنے رب کے حضور سربسجود رہا ہوتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ اس کا شمار ان مقبول لوگوں میں ہو چکا ہے، جن کے لیے عید کی حقیقی خوشی پہلے ہی لکھی جا چکی ہے۔ ایک ایسی خوشی جو نہ بازاروں کے ہنگاموں میں ہے اور نہ ہی نئے کپڑوں میں ہے بلکہ اس سکون میں ہے جو بندے کے دل میں یہ احساس جگا دیتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو چکا ہے۔
پس، وہی لوگ خوش نصیب ہیں جو عید سے قبل ہی عید پا لیتے ہیں کیونکہ اصل عید صبحِ عید کی رونقوں میں نہیں بلکہ ان راتوں میں پوشیدہ ہے جہاں خلوت میں گرے ہوئے آنسو ہزاروں خوشیوں پر بھاری ہو جاتے ہیں۔ جہاں رب راضی ہو جاتا ہے۔