وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ سمیت تمام سہولیات کا حق اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دیہات اور پسماندہ علاقے بھی ترقی کے یکساں سفر میں شامل ہوں گے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مریم نواز نے متعدد انقلابی اقدامات کی منظوری دی۔ اجلاس میں جنوبی پنجاب اور دور دراز اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر ای بسوں کی فراہمی، گوجرانوالہ میں بی آر ٹی سسٹم، فیصل آباد میں اورنج و ریڈ لائن منصوبوں اور لاہور کلین ایئر پروگرام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم فیصلے اور منصوبے:
پہلا مرحلہ:
پنجاب کے 24 اضلاع کو 240 ای بسیں فراہم کی جائیں گی۔
اگست تا اکتوبر:
لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی کے لیے 500 ای بسیں فراہم کی جائیں گی۔
نومبر تا دسمبر:
مزید 600 ای بسیں پنجاب کے مختلف اضلاع میں روانہ کی جائیں گی۔
لاہور کلین ایئر پروگرام:
لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ کو 400 ای بسیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ماحولیاتی بہتری اور سفری سہولتیں بیک وقت ممکن بنائی جا سکیں۔
گوجرانوالہ بی آر ٹی منصوبہ:
راہوالی سے ایمن آباد تک 22 کلومیٹر طویل بی آر ٹی روٹ
28 اسٹیشن
گکھڑ منڈی تک توسیع پر غور
80 فیڈر بسیں چلانے کا فیصلہ
4 الیکٹرک بس ڈپو قائم کیے جائیں گے
ہر 8 منٹ میں بس کی دستیابی
سمارٹ ٹریفک سلوشنز کا نفاذ
فیصل آباد کے میگا ٹرانسپورٹ منصوبے:
ریڈ لائن:
23.4 کلومیٹر طویل، 24 اسٹیشنز، روزانہ 1.85 لاکھ مسافر
اورنج لائن:
29 کلومیٹر طویل، 21 اسٹیشنز، روزانہ 1.11 لاکھ مسافر
روٹ میں فیڈمک انڈسٹریل زون سے سلامی چوک کو شامل کرنے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ کا عزم:
مریم نواز نے واضح کیا کہ:
"ہر ضلع میرے لیے برابر ہے، اور ہم تمام علاقوں کو یکساں ترقی اور سفری سہولیات فراہم کریں گے۔"انہوں نے عوام کی آمدورفت، ضروریات، اور مقامی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ منصوبے ڈیزائن کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ:"یہ وقت عمل کا ہے، ہر منصوبہ فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد سہولتوں سے مستفید ہو سکیں۔"یہ اقدامات پنجاب میں ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی بہتری کی طرف ایک عملی اور مربوط پیش رفت ہیں، جس سے دیہی و شہری طبقات یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔