جمعرات کے روز وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں امداد کے حصول کے لیے جمع عوام پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ہدف حماس سے منسلک سکیورٹی یونٹ "سہم" تھا، جو مبینہ طور پر حماس کے مفادات کا تحفظ کر رہا تھا۔
واقعے کی تفصیل:
عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے وقت ایک بڑی تعداد میں شہری غزہ کی وزارت داخلہ سے وابستہ سیکیورٹی یونٹ "سہم" کے ذریعے آٹے اور امدادی سامان کی تقسیم کے لیے موجود تھے۔یہ یونٹ بدعنوان عناصر اور امدادی سامان لوٹنے والوں سے سامان واپس لے کر مستحقین میں تقسیم کر رہا تھا۔ اسی دوران فضائی حملہ ہوا جس نے موقع پر موجود کئی افراد کی جان لے لی۔
ہسپتال ذرائع کی تصدیق:
جاں بحق افراد کی تعداد: 18
ان میں ایک بچہ اور کم از کم سات "سہم یونٹ" کے اہلکار شامل تھے
زخمیوں کی تعداد بھی کئی بتائی جا رہی ہے، جنہیں الاقصیٰ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے
حملے کے بعد کے مناظر:
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں:
سڑکوں پر نوجوانوں کی لاشیں
خون میں لت پت فرش
عمارتوں کی دیواروں پر خون کے چھینٹے
یہ مناظر غزہ کے شدید بگڑتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔
سہم یونٹ کیا ہے؟
سہم، حماس کی وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والا ایک سکیورٹی یونٹ ہے
اس کا کام:
امدادی سامان لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی
چوری شدہ امداد کو ضبط کر کے غریبوں میں دوبارہ تقسیم کرنا
ناجائز منافع خوری کرنے والے تاجروں کے خلاف کریک ڈاؤن
اس میں صرف حماس کے افراد نہیں بلکہ دیگر دھڑوں کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں
اسرائیلی مؤقف:
فوری تبصرہ نہیں کیا گیا
عمومی طور پر اسرائیل کا مؤقف ہے کہ:
حماس بین الاقوامی امداد کو عوام کی بجائے اپنے سیاسی و جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے
غزہ کی پولیس کو اسرائیل حماس کی ایک مسلح شاخ سمجھتا ہے، اسی لیے بارہا پولیس یونٹس پر حملے کیے گئے ہیں
تجزیہ:
یہ واقعہ امداد کی تقسیم جیسے بنیادی انسانی حق کو بھی جنگی حالات میں خطرے میں ڈالنے کی مثال ہے
اگر اسرائیلی حملہ واقعی سہم یونٹ کے خلاف تھا، تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا شہریوں کی موجودگی میں ایسا حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے؟
یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ:
غزہ میں کوئی بھی اجتماع خطرے سے خالی نہیں
امن و امان کی بحالی کے لیے سرگرم مقامی یونٹس بھی محفوظ نہیں
بین الاقوامی ردعمل؟
تاحال اقوام متحدہ، ریڈ کراس یا انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، لیکن موجودہ صورتحال میں ان تنظیموں کی مداخلت اور نگرانی انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔