سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
جب تاریخ قلم اٹھاتی ہے،تومحض واقعات کاردیف قافیہ مرتب نہیں کرتی،بلکہ زمانے کے دھڑکتے ہوئے نبضوں کوالفاظ کے قالب میں ڈھالتی ہے۔جب تاریخ کی زلفِ پریشاں میں خون کی مہک بسی ہواورسیاست کی پیشانی پربارودکی لکیرابھرآئے،تب ایک معمولی واقعہ بھی تاریخ کارخ موڑدیتاہے۔پہلگام حملہ،جس نے دونوں ملکوں کوکشیدگی کے نازک پل پرلاکھڑاکیا،محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں کئی تہیں چھپی ہیں۔پہلگام کے دھماکہ خیزلمحے نے ایک بارپھربرصغیرکے دوایٹمی ہمسایوں بھارت اور پاکستان کواس موڑپرلاکھڑاکیاجہاں ایک لفظ،ایک گولی یاایک پرچم کی جنبش پوری دنیاکے امن کولرزاسکتی ہے۔یہ صرف سرحدوں کی گرج نہیں تھی،بلکہ دلوں کے دھڑکنے ،ذہنوں کے جلنے اوربیانیوں کے بننے بگڑنے کاموسم تھا۔گزشتہ دنوں ایک ٹل جانے والی قیامت کاہرپل نہ صرف حالیہ تناظرکااحاطہ کرتاہے بلکہ ماضی کی گواہی بھی ساتھ لیے ہوئے چیخ چیخ کرعبرت دلا رہاہے۔
مئی2025کے آغازپرہونے والے اس چارروزہ تنازع میں پاکستانی فوج نے نہ صرف اپنے دشمن کومنہ توڑجواب دیابلکہ یہ یقین بھی دلادیاکہ وہ اب محض دفاعی قوت نہیں بلکہ حکمتِ عملی سے لیس ایک مربوط عسکری ادارہ ہے۔یہ مظاہرہ پہلی بارنہیں تھا۔1965اور 1999کی جنگیں اس حقیقت کابین ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج،عددی لحاظ سے بڑے دشمن کے خلاف بھی مؤثردفاع کرسکتی ہے۔اس باربھی،بھارت کوجس برق رفتاری،ٹیکنالوجی،اورغیرمتوقع ردِعمل کاسامناکرناپڑا،وہ عسکری اصطلاح میں جنگی مہارت میں حیران کن کارکردگی ثابت ہواہے جس سے پاکستانی فوج کے عسکری اعتمادنے جہاں بھارت اوراسرائیل کوناکوں چنے چبوائے وہاں اس کے اتحادیوں کیلئے بھی حیران کن ثابت ہوا ہے ۔پاکستانی عسکری قوت نے اس جھڑپ میں وہ کچھ دکھایاجوبسااوقات عسکری نظریے کی نصابی کتابوں میں بھی صرف تصورہی کی حدتک موجودہوتاہے۔فوجی توازن کے عالمی پیمانوں پراگرچہ پاکستان کوعددی برتری حاصل نہیں،مگرجس جرت،چابکدستی اور حکمت عملی سے اس نے بیک وقت کئی محاذوں پراپنی موجودگی کااحساس دلایا،وہ بھارت کیلئے ناقابلِ تصورتھی۔اس عسکری رسوخ نے داخلی طورپربھی ایک نئی جہت کوجنم دیا۔
جنرل عاصم منیر،جوکبھی سیاسی پس منظرکی دھندمیں تنقیدکے نشترسہہ رہے تھے،آج اسی فوجی کامیابی کے صدقے ایک مقبول قومی علامت کے طورپرابھرے ہیں۔ان کی قیادت میں پاکستانی افواج نے نہ صرف دشمن کی عسکری پیش قدمی کوروکنے میں کامیابی حاصل کی،بلکہ عالمی سطح پرپاکستان کے مؤقف کواجاگرکرنے کی مہم میں بھی پیش پیش رہی۔ادھر دوسری طرف چین کی خارجہ پالیسی کی بنیادی روح’’توسیع نہیں،تسلط‘‘پرمرکوزہے۔ وہ براہِ راست مداخلت کی بجائے اپنے اتحادیوں کے ذریعے طاقت کامظاہرہ کرتاہے۔ پاکستان اس پالیسی میں اس کاسب سے بڑاتزویراتی ہتھیارہے۔اس واقعہ کے جغرافیائی اثرات محض دہلی اور اسلام آباد تک محدود نہیں رہے۔ چین،جوپہلے ہی لداخ کے دھندلکوں میں بھارت سے نبردآزماہے،اب پاکستان کی دفاعی کارکردگی کواپنے حق میں ایک مظبوط دلیل کے طورپردیکھ رہاہے۔لداخ میں بھارت سے تناؤ،تائیوان میں امریکی حمایت یافتہ خودمختاری کی تحریک،اوربحیرہ جنوبی چین میں نیوی کی مشقیںان تمام محاذوں پرچین اب ایک نئی’’ملٹری ٹیکنالوجیکل پاور‘‘کے طورپر ابھررہاہے۔
چین،جوخطے میں اپنی بالادستی کے خواب کوحقیقت میں ڈھالنے کیلئے کوشاں ہے،پاکستان کی عسکری مستعدی کواپنے لیے تقویت سمجھتاہے۔لداخ اورگلوان میں بھارت کے ساتھ پہلے ہی اس کاتناؤجاری ہے۔ایسے میں پاکستانی فورسزکاحوصلہ،بہادری،تجربہ کاری کا دفاعی ردعمل چین کیلئے جہاں ایک تزویراتی اتحادی کی حیثیت رکھتاہے وہاں چین کی قوت کو تقویت اورعالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے وکٹری سٹینڈپربرتری کے درجے پرکھڑاکردیاہے۔پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی،چین کے اس مفروضے کوتقویت بخشتی ہے کہ جنوبی ایشیامیں بھارت کی عسکری بالادستی اب ایک خوابِ نیم شب ہوچکی ہے۔
بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ ہویاسی پیک،چین کی سوچ معاشی راستوں سے فوجی راہداری تک جاپہنچی ہے۔اس حالیہ تنازع میں پاکستان کی مستعدی نے چین کوایک ایسادفاعی’’ کلیمور‘‘ فراہم کیاہے جونہ صرف بھارت کی توسیع پسندی کوچیلنج کرتاہے بلکہ امریکاکوبھی یہ پیغام دیتاہے کہ ایشیااب یک قطبی نہیں رہا۔یہ وہی مثلث ہے جو1971میں امریکا،چین اور پاکستان کے درمیان دکھائی دی تھی،جب ہنری کسنجرنے پاکستان کے ذریعے چین کا دورہ کیاتھا۔آج بھی وہی رشتہ نئی شکل میں قائم ہے۔یوں یہ تنازع صرف دوہمسایہ ممالک کے درمیان ایک وقتی کشیدگی نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کی صف بندی کاایک آئینہ بھی ہے۔
یادرہے کہ بھارت نے گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان سے سفارتی فاصلہ رکھنے کی پالیسی اختیارکی تھی لیکن حالیہ کشیدگی نے اسے ایک بارپھراس دائرے میں کھینچ لیاہے جہاں اسے پاکستان کوبراہ راست جواب دیناپڑتاہے۔یہ خارجہ پالیسی کی وہ لغزش ہے جس کااندازہ نہروکے دورمیں بھی ہواتھاجب1962کی چین-بھارت جنگ میں بھارت کوعالمی حمایت حاصل کرنے کیلئے عجلت میں فیصلے کرنے پڑے۔
سیاست میں لفظ بھی ایک ہتھیارہے،اوربیانیہ وہ میزائل جودلوں اوراذہان کونشانہ بناتاہے۔اس کشمکش میں جہاں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں ’’سندور‘‘کی قسم کھاکرقوم پرستی کے دیوتاکوپکاررہے تھے،وہیں پاکستان نے اقوامِ عالم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیاکہ دہلی خودخطے کوجنگ کے دہانے پرلارہاہے۔مودی کایہ کہناکہ’’میری رگوں میں سندوربہتاہے‘‘ایک مذہبی علامت سے زیادہ،سیاسی اسلحہ تھاجس سے بھارت کی داخلی سیاست کو گرمایاگیالیکن سوال یہ ہے کہ کیاقومی مفادات کے محافظین کے ہاتھ میں جذبات کی شعلہ بیانی ایک محفوظ ہتھیارہے؟
نریندرمودی کاانتخابی جلسے میں وہ بیان کہ’’میری رگوں میں سندوربہتاہے۔۔۔۔سکھ چین سے روٹی کھاؤورنہ میری گولی توہے ہی‘‘ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کی ایٹمی سلامتی کے منہ پرایک کھلاطمانچہ ہے جس کے ذریعے مذہبی جذبات کوہوادے کر قوم پرستی کاپرچم بلندکیاگیالیکن نہ تویہ طرزِخطاب تاریخ میں نیانہیں بلکہ اس کاشرمناک انجام بھی تاریخ نے محفوظ کررکھاہے تاکہ دنیااس سے عبرت حاصل کرے۔اس طرح کی دہمکی آمیز،بازاری اورمعاندانہ زبان نہ صرف بین الاقوامی آدابِ سیاست کی توہین ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی روح کی بھی منافی ہے۔ایسی زبان،ایسی سنگینی،ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کے شعلوں میں گھراہو،غیرمعمولی تشویش کاباعث بن گئی ہے۔عالمی میڈیا ،سفارتی حلقے،اورامن پسند قومیں اس طرزِبیان پرحیران ہیں کہ ایک ایٹمی ریاست کاوزیراعظم کس بے باکی سے جنگی ترانے گاتاہے۔
تاریخ میں اگرچہ سیاست دانوں نے جرات آمیزالفاظ کہے ہیں،مگرکبھی بھی اس حدتک شخصی انتقام کی آگ کوانتخابی ایندھن نہیں بنایاگیا۔اندراگاندھی نے1971میں مشرقی پاکستان کے خلاف جنگ سے قبل بھی اسی قسم کی تقاریرکی تھیں اور1971میں اندراگاندھی نے بنگلہ دیش کے تناظرمیں تلخ بیانات ضروردیے تھے،مگرایسی دہمکی آمیززبان استعمال کرنے سے انہوں نے بھی گریزکیاتھا۔مودی کی تقاریر،اس کے برعکس،ہندوتوانظریے،نفرت،اورذاتی غرورکاپرچاربن چکی ہیں۔انتخابات جیتنے کیلئے مودی کایہ نیاڈرامہ کوئی نیا نہیں،اس سے قبل بھی گجراتی قصاب نے بطورانڈین گجرات کے وزیراعلی ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کانہ صرف حکم دیابلکہ اب بھی انڈیامیں مسلمانوں کے خاتمے کیلئے کھلم کھلابیان بازی کرتارہتاہے۔مودی کی گولی والی دھمکی نہ صرف اسی سیاسی سکرپٹ کاحصہ ہے بلکہ اس کی مکاری اورذہنی بیماری کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ایٹمی ملک کے ایسے شدت پسند سربراہ سے دنیاکوکس قدرشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے اندرکانگریس جیسی جماعتیں اس موقع پربی جے پی کی خارجہ پالیسی کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو بی جے پی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے تعبیرکر رہی ہیں۔وہ یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ بھارت کی سفارتکاری،جوکبھی ایک عالمی مثال ہوا کرتی تھی،آج ردِعمل اوراشتعال انگیزی کی راہوں پرگامزن ہے اوربھارت کی جارحانہ پالیسی درحقیقت اس کے عالمی تنہائی کاباعث بن رہی ہے۔یہ احتجاج اس بات کی گواہی دیتاہے کہ معاملہ صرف عسکری یاسفارتی نہیں،بلکہ داخلی سیاسی حرکیات کابھی عکاس ہے ۔ خارجہ پالیسی کاناکام ہونادرحقیقت اندرونی سیاسی کشمکش کااظہارہے۔2002میں گجرات فسادات کے بعدبھی بھارت کو سفارتی سطح پرمشکلات کاسامناکرناپڑاتھااورآج تک بھارت کے چہرے کی بدترین کالک کے طورپرتاریخ میں رقم ہوچکاہے۔
پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اوران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیابھرکیلئے لمحہ فکریہ ہے۔کارگل جنگ کے دوران بھی عالمی برادری نے بروقت مداخلت کی تھی تاکہ دوایٹمی ریاستیں کسی حماقت میں نہ پڑجائیں۔کیاہم آج بھی اسی دہلیزپر کھڑے ہیں؟کیابرصغیرایک بارپھرتاریخ کی بھٹی میں جھونکاجائے گا؟
(جاری ہے)