نیپال نے 28 اگست 2026 کو نئی سیلابی وارننگ جاری کی ہے، یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ملک 26 اگست کے تباہ کن سیلاب سے ابھی تک مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکا ہے۔
معلومات کے مطابق، نیپال-چین سرحد کے قریب تبت میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی ایک بڑی جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، اس جھیل میں 2.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی موجود ہے، اور اس کے اوور فلو ہونے کے امکانات کے پیش نظر شدید سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔مزید تشویشناک خبر یہ ہے کہ تبت کی جانب ایک ڈیم یا پانی کا بند دوبارہ ٹوٹنے کی اطلاع ملی ہے، جس کے نتیجے میں نیپال کے دریائے بھوٹے کوشی، تریشولی، اور نارایانی کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔متاثرہ علاقوں راسووا اور نوواکوت سمیت دیگر علاقوں میں رہائشیوں اور امدادی ٹیموں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 26 اگست کے سیلاب میں کم از کم 470 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1,400 سے زائد افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔ نئے سیلاب کے خطرے سے امدادی اور تلاش کی کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔چین کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جھیل میں پانی کی مقدار مزید جمع ہونے سے اس کے پھٹنے کا خطرہ برقرار ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔