پاکستانی وزیر اعظم ، فیلڈ مارشل اچھے لوگ ، مجھے دونوں پر اعتماد :امریکی صدر
ٹرمپ کے کمبوڈیا تھائی لینڈ امن معاہدے پر دستخط،تجارتی معاہدے بھی طے کئے
کوالالمپور،واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہوں، مجھے جنگیں رکوانا پسند ہے، میری انتظامیہ 8 ماہ میں 8 جنگیں رکوا چکی ، ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں 47 ویں آسیان ممالک کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں امن معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھر سے مسائل شروع ہوگئے ہیں، مجھے لگتا ہیکہ میں اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ کرسکتا ہوں لیکن فی الحال مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، دونوں ممالک کو جانتا ہوں ، میں پاکستان اور افغانستان کا مسئلہ جلد حل کروا دوں گا۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی قیادت کی تعریف کی، انہوں نے کہا پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اچھے لوگ ہیں، مجھے دونوں پر اعتماد ہے۔وہ بہت زبردست لوگ ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ میں کچھ لوں اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچالوں تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا، کسی امریکی صدر نے ایسا نہیں کیا، انہوں نے جنگیں شروع کیں مگر ان کا حل نہیں نکالا، امن عمل میں شریک ہونا ایک اعزاز ہے۔ تجارت کے ذریعے جنگیں رکوائیں، ہم جنگیں نہیں تجارت چاہتے ہیں، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا امن معاہدہ لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو ملائیشیا سے اپنے ایشیائی دورے کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے اور دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی طے کیے۔ٹرمپ نے کہا وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ایک عظیم تجارتی معاہدے کے لیے پْرامید ہیں۔ یہ معاہدے امریکا اور چین دونوں کے لیے بہترین ہوں گے۔ امریکی صدر آج پیر کو جاپان اور پھر جنوبی کوریا جائیں گے جہاں چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ان کی اہم ملاقات متوقع ہے۔قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ آسیان ممالک کے 47 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے ملائیشیا پہنچے، دارالحکومت کوالالمپور میں ملائیشین وزیراعظم نے ریڈ کارپٹ پر صدر ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پر امریکی صدر نہایت پرجوش نظر آئے، انہوں نے امریکا اور ملائیشیا کے پرچم لہرائے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے کا موقع دیکھ رہا ہے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ آیا بھارت نے امریکا اور پاکستان کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات پر کوئی تشویش ظاہر کی ہے؟،جس پر مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے، البتہ ہم جانتے ہیں کہ فطری طور پر فکر مند ہوں گے کیونکہ تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی رہی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں بہت سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے کا موقع دیکھ رہے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم دیکھیں کن ممالک کے ساتھ ہم مشترکہ مفادات کے شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔