بھٹو کا ٹرائل سیاسی ٹرائل کی کلاسک مثال ہے:جسٹس منصور

سیاسی ٹرائل میں من پسند نتائج کے لئے غیر شفاف طریقے آزمائے جاتے ہیں
جسٹس منصور علی شاہ کا 6 صفحات پر مشتمل  اضافی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری 
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی  کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے 5 بعد اضافی نوٹ جاری کردیا ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس منصور علی شاہ کا 6 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کردیا گیا ہے اور اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل سیاسی ٹرائل کی کلاسیک مثال ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹ میں کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کیس میں تفتیش کی منظوری غیر قانونی طور پر دی گئی، سیاسی ٹرائل میں من پسند نتائج کے لیے غیر شفاف طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ سیاسی ٹرائل میں عموما سابق اتحادیوں کے ہی بیانات لے کر عموما گواہ بنایا جاتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ بھٹو نے خود کہا تھا آئین کی چھتری تلے ہی عدلیہ آزاد رہ سکتی ہے اور کہا تھا صحرا میں پھول نہیں کھل سکتے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آمرانہ دور میں ججوں کو یاد رکھنا چاہیے ان کی اصل طاقت عہدے پر فائز رہنا نہیں آزادی کو قائم رکھنا ہے، جسٹس دوراب پٹیل نے بھٹو کیس میں جرات مندی سے اختلاف کیا۔