باصلاحیت پاکستانی فنکار نے کباڑ کو خوبصورت مجسموں میں تبدیل کر دیا

باصلاحیت پاکستانی فنکار نے کباڑ کو خوبصورت مجسموں میں تبدیل کر دیا

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور اس کی ایک منفرد مثال باصلاحیت فنکار احتشام جدون ہیں، جنہوں نے کباڑ سمجھی جانے والی دھاتی اشیاء کو خوبصورت اور دلکش مجسموں میں تبدیل کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔

احتشام جدون گاڑیوں کے پرانے اور ناکارہ پرزہ جات، لوہے کے ٹکڑوں اور دیگر دھاتی کباڑ کو استعمال کر کے بڑے اور متاثر کن مجسمے تخلیق کرتے ہیں۔ ان کے بنائے گئے فن پارے نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں بلکہ اس بات کی بھی مثال ہیں کہ بظاہر بے کار چیزوں کو بھی فن کے ذریعے نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احتشام جدون نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی دھات اور مختلف میکانکی اشیاء سے دلچسپی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کباڑ میں دھات کے ٹکڑے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں فوراً مختلف مجسموں کے ڈیزائن اور شکلیں ابھرنا شروع ہو جاتی ہیں، جنہیں وہ بعد میں حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔احتشام جدون کا تعلق پہلے مارشل آرٹس سے رہا ہے اور انہوں نے باقاعدہ طور پر آرٹ کی تعلیم حاصل نہیں کی۔

 وہ ماضی میں اسٹیل فیبریکیشن کا کام کرتے رہے، جس سے انہیں دھات کے ساتھ کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔ اسی تجربے اور شوق کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے مجسمہ سازی کو اپنا ذریعہ اظہار بنا لیا۔ان کے تیار کردہ مجسمے نہ صرف فن کا اعلیٰ نمونہ ہیں بلکہ ماحول دوست سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ وہ کباڑ کو ری سائیکل کر کے اسے ایک نئی اور قیمتی شکل دیتے ہیں۔ احتشام جدون کا یہ منفرد کام نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ محنت، تخلیقی سوچ اور لگن کے ذریعے محدود وسائل میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔