پروفیسر محمد ایوب منیر
اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور یورپین یونین کے اندازوں کے مطابق تباہ حال غزہ اور مغربی کنارے کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 53 بلین امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق 20 لاکھ آبادی والے غزہ کے 95 فیصد اسکول تباہ ہو چکے ہیں، 90 فیصد مکان اور رہائشی عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں، سڑکوں، فراہمی آب اور زراعت کا کیا حال ہوا، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جنگ عظیم دوم کی تباہی جیسی یہ تباہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی آبادی کو مصر اور اردن میں منتقل کرنے اور اسے امریکی کنٹرول میں لینے کی تجویز کی شدید ترین مذمت کی گئی ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اور غزہ کے باسیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے 15 ماہ تک اسرائیلی بمباری اس لیے برداشت نہیں کی تھی کہ انہیں اپنے ہی وطن سے بے دخل کر دیا جائے۔ وہ کسی بھی حال میں غزہ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کے بعد امریکہ کو بھی ناکامی ہوئی۔ 21 فروری کو سعودی عرب میں خلیجی ریاستوں کے سربراہ ایک اہم اجلاس میں اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی سے اہل غزہ کے انخلا کے امریکی مشورے کو مسترد کر دیا۔ اس اجلاس میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم سلمان بن حمد الخلیفہ، متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان اور قومی سیکیورٹی ایڈوائزر شیخ طحنون بن زید النہیان نے شرکت کی۔
اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں، تاہم اجلاس کے اختتام پر کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، نہ ہی پریس بریفنگ ہوئی۔ عرب ممالک کے علم میں ہے کہ 48 ہزار فلسطینی اسرائیلی بمباری اور حملوں میں جان کی قربانی دے چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ہلاک شدگان میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔
طوفان اقصیٰ کے آغاز سے قبل غزہ کی جو اقتصادی رفتار تھی، اگر اسی رفتار سے کام جاری رہا تو غزہ کے ملبے کو صاف کرنے اور اس کی بحالی میں 350 سال لگ جائیں گے۔ عالم عرب اور عرب حکمران اسرائیل کو روک نہ سکے، لیکن ان کے پاس موقع ہے کہ وہ غزہ کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ مشترکہ کوششوں سے 20 سال میں بحالی ہو سکتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حماس کی نفی کر کے غزہ میں حکومت بنانا مشکل ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ تو اس علاقے کی بحالی کے لیے رضامند ہی نہیں ہیں، جبکہ عرب ممالک غزہ کے شہریوں کو اردن اور مصر میں دھکیلے جانے کو پسند نہیں کرتے۔ تاہم وہ نو منتخب امریکی صدر سے بھی اچھے تعلقات بحال رکھنا چاہتے ہیں۔
غزہ میں حکومت کس کی ہوگی؟ متاثرین کے انتظامات کون سنبھالے گا؟ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے خطیر رقم کہاں سے آئے گی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا فوری جواب دینا مشکل ہے۔ اس کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ اسرائیل غزہ پر اور اہل غزہ پر دوبارہ حملہ نہ کرے۔ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی بھی کسی قسم کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم مصر کی حکومت نے ایک منصوبہ پیش کیا، جس میں غزہ کے شہریوں کو غزہ کے اندر ہی مختلف علاقوں میں آباد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
عالم اسلام اور عالم عرب کا اتفاق ہے کہ امریکہ کو کسی صورت میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ غزہ کے فلسطینی کسی بھی غلامی میں جانے کے لیے اب تیار نہیں ہیں۔