محمد تسنیم رضا
اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کرکے جو تخریبی کارروائی کی، اس نے پاکستان کے لیے امتِ مسلمہ کی نمائندگی کے امکانات کو روشن کر دیا ہے۔ عرب جو مدتوں سے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ امریکہ ان کی حفاظت پر مامور ہے اور ان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا، ایک ہی حملے نے اس خوش فہمی کا پردہ چاک کر دیا۔ عربوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنی حفاظت پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود محفوظ نہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چوکیدار ہی چور کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
ایک طرف وہ ان پر دھونس کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرواتا ہے، ان کے سرمایے کو اپنے ملک میں اپنی تحویل میں رکھتا ہے، ان کی حفاظت کے لیے انہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور دوسری طرف اپنے لے پالک کو حملے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، کوئی تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور عرب بے بسی سے اپنا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔
اپنی بے بسی کا ادراک ہونے کے بعد انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک چنگاری ان کے دامن میں ایسی بھی ہے جو دشمن کو نیست و نابود کرنے اور ان کے ناپاک ارادوں سے بنے محلات کو جلانے کے لیے کافی ہے۔ اور اس چنگاری کا نام ہے پاکستان۔ جیسے ہی عربوں کو اس کا ادراک ہوا، انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنے دفاع کا معاہدہ کر لیا۔ اور معاہدہ بھی ایسا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان اپنی تمام عسکری صلاحیتوں بشمول ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ نہ صرف اپنا بلکہ سعودی عرب کا دفاع بھی کر سکتا ہے۔ اس ایک جملے نے سعودی عرب کو بیٹھے بٹھائے ایک ایٹمی طاقت بھی بنا دیا اور پاکستان کے دیرینہ دوست کا تعاون بھی حاصل ہو گیا۔ اور اب سعودی عرب کے ساتھ صرف پاکستان ہی نہیں کھڑا بلکہ اس کا ازلی دوست چین بھی کھڑا ہے۔ اس کا ثبوت چین کا مغربی کنارے اور غزہ پر دیا گیا وہ بیان ہے جس میں چین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب شنید ہے کہ پاکستان کے اس طرح کے معاہدے چند دوسرے ممالک سے بھی ہونے جا رہے ہیں۔
۔ پاکستان کے پاس اس وقت امتِ مسلمہ کی قیادت سنبھالنے کا سنہری موقع ہے لیکن یہ قیادت صرف ایٹمی ہتھیاروں کے زور پر ممکن نہیں۔ قیادت کے لیے معاشی استحکام، سیاسی بلوغت اور سفارتی بصیرت لازمی ہیں۔ اگر عرب دنیا صرف یہ چاہے کہ پاکستان ان کا دفاع کرے لیکن اپنی جیب سے پاکستان کے لیے کوئی ٹھوس اور دیرپا سرمایہ کاری نہ کرے تو یہ معاہدے محض کاغذی دستاویزات رہ جائیں گے کیونکہ معاشی استحکام کے بغیر دفاع ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے؛ اب عرب صرف عسکری شراکت دار نہ بنے بلکہ معاشی شراکت دار بھی بنے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پاکستان کے لیے کوئی ’’مارشل پلان‘‘ جیسی اسکیم لاتے ہیں یا پھر روایتی امداد اور
چند ارب ڈالر کے ذریعے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چند ارب ڈالر وقتی سہولت تو دے سکتے ہیں مگر مستقل استحکام نہیں۔ مستقل استحکام کے لیے ان ممالک کو پاکستان میں اسی طرح بڑی سرمایہ کاری کرنی ہوگی جس طرح کی سرمایہ کاری یہ امریکہ میں کرتے آئے ہیں۔
اگر یہ ممالک صرف پاکستان کی ایٹمی چھتری کے نیچے آ کر محفوظ رہنا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے میں ’’مونگ پھلی‘‘ دینے پر اکتفا کریں گے تو یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ کیونکہ پاکستان کے عوام نے غربت، قربانیاں اور سختیاں جھیل کر اس ملک کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ آج دنیا اسے امت کی ڈھال سمجھنے لگی ہے۔ لہٰذا اس وقت پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پر لازم ہے کہ وہ ہر دفاعی معاہدے کو معاشی معاہدے کے ساتھ نتھی کرے۔
پاکستان کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ تاریخ میں بڑے فیصلے ہمیشہ بحرانوں کے بعد ہی لیے گئے ہیں۔ آج جب عربوں کو اپنی کمزوری کا احساس ہوا ہے اور انہوں نے پاکستان کی طاقت کو تسلیم کیا ہے تو یہ وقت پاکستان کے لیے اپنی جائز شرائط منوانے کا ہے۔ ورنہ کل کو یہ معاہدے بھی تاریخ کے اوراق میں دب جائیں گے اور پاکستان ایک بار پھر ہاتھ ملا کر رہ جائے گا۔
پاکستان کی داخلی صورتِ حال بھی اسی بحث کا ایک لازمی حصہ ہے۔ باہر کی دنیا اگر پاکستان کو امتِ مسلمہ کی قیادت کے لیے دیکھ رہی ہے تو پہلے پاکستان کو اپنے اندرونی تضادات پر قابو پانا ہوگا۔ معاشی استحکام کی بنیاد سیاسی استحکام سے جڑی ہے اور سیاسی استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قیادت ذاتی مفادات اور اقتدار کی رسہ کشی سے نکل کر قومی مفاد کو ترجیح نہ دے۔ اگر اندرونِ ملک ہم باہم دست و گریباں رہیں گے تو بیرونِ ملک کوئی بھی ہماری صلاحیتوں پر اعتماد نہیں کرے گا، خواہ ہمارے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہی کیوں نہ ہوں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اداروں کو سیاسی اثر سے پاک کریں، تعلیم اور معیشت کو اولین ترجیح دیں اور عالمی دنیا کے سامنے خود کو ایک قابلِ بھروسہ پارٹنر کے طور پر پیش کریں۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانش مندی سے استعمال کرے تو نہ صرف اپنے قرضوں کی زنجیریں توڑ سکتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک حقیقی رہنما بھی بن سکتا ہے۔
مواقع سے ہمیشہ وہی اقوام فائدہ اٹھاتی ہیں جو اپنے اندر تعمیر اور تخلیق کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ محض تخریب کے ردِعمل پر کبھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اگر ہم نے دوبارہ وہی پرانی روش اپنالی، وقتی امداد پر اکتفا کیا اور اپنی جائز شرائط منوانے کے بجائے دوسروں کی شرائط کے آگے جھک گئے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہیے جس سے ہمارا قومی شعور، وقار اور خودداری قائم رہے۔