چھٹیاں ہونے کے باوجود سرحد بند ہونے کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ پا رہے
پشاور( آن لائن ) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ افغانستان میں مقیم تقریباً 2500 سے 3000 پاکستانی طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان طلبہ کا تعلیمی سیشن مکمل ہو چکا ہے اور چھٹیاں ہونے کے باوجود سرحد بند ہونے کی وجہ سے وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ پا رہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ سرحدی بندش طلبہ کی واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور حکمرانوں کو چاہیے کہ آپسی اختلافات اور ضد کو ختم کریں، کیونکہ ان فیصلوں کا براہِ راست نقصان طلبہ، تجارت اور روزگار پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے فوری مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالیں اور افغانستان میں پھنسے طلبہ کو بحفاظت واپس لانے کے لیے اقدامات کریں