اکائیاں کمزور کرنے سے وفاق کیسے مضبوط ہو گا، پنجاب میں پاسکو جیسا کوئی ادارہ تو بنا کر دکھائیں،کیوں اداروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں،جنرل سیکرٹری پی پی وسطی پنجاب
پاسکو آپ پر نہیں آپ پاسکو پر بوجھ ہیں،پاسکو کے ہر احتجاج میں انکے ساتھ کھڑے ہیں،پیپلز پارٹی اسکی بندش کیخلاف دیوار بن کر کھڑی ہو گی،رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس
لاہور( پبلک نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ کونسی جگہ پر کرپشن نہیں ہوتی ،ہماری ترجیح کرپشن روکنا ہے یا ادارے بند کرنا؟،اینٹی کرپشن کا ادارہ کرپشن ختم نہیں کر سکا تو کیا پھر اسے بھی ختم کر دینا چاہیے۔حکومت فوڈ سکیورٹی کے ادارے بند کرنے کے بجائے پاسکو کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائے،حکمرانو ںنے روش نہ بدلی تو اناج اگانا بند کو دینگے۔جس دن گندم چاول اگانا بند کر دیا تو انہیں لگ پتا جائیگا،پر زور مطالبہ ہے کہ پاسکو کو بند کرنے سے باز رہیں۔پاسکو آپ پر نہیں آپ پاسکو پر بوجھ ہیں،پاسکو کے ہر احتجاج میں انکے ساتھ کھڑے ہیں۔پیپلز پارٹی اسکی بندش کیخلاف دیوار بن کر کھڑی ہو گی۔وہ پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں صدر آل پاکستان پاسکو ایمپلائز یونین بابر علی اور صدر پاسکو ہیڈ کوارٹر لاہور انیس بابر،پارٹی رہنما اورنگزیب برکی،میاں مصباح الرحمن،فیصل میر،سید عنایت علیشاہ،ندیم اصغر کائرہ،چودھری سجاد الحسن،عائشہ نواز چودھری اور چودھری اختر علی کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جاوید بھٹی،چودھری سجاد نذیر،حاجی فلک شیر،آغا تقی بھی موجود تھے۔حسن مرتضیٰ نے کہا کہ لوگوں میں زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے حکومتی محکموں کی بندش اور نجکاری پر تشویش ہے،پیپلز پارٹی نے جو اصلاحات کی ہیں اسکی وجہ سے کاشتکار خوشحال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ایگرو بیسڈ اکانومی ہے مگر ہم ہر چیز امپورٹ کر رہے ہیں،خوراک بھی درآمد کرنا شروع کر دینگے تو کیا ہو گا۔حسن مرتضیٰ نے واضح کیا کہ آصف زرداری نے فہم و فراست سے کاشتکار کو فائدہ پہنچایا،چینی کے لیے ماضی میں لائنیں لگتی تھیں مگر پیپلز پارٹی گنے کی سپورٹ پرائس 50سے 200روپے من تک لے گئی۔آج بجلی ، پٹرولیم اورکھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،کہاں ہے محکمہ زراعت جس نے پالیسیاں بنانی ہوتی ہیں،کوئی ریسرچ سنٹر نہیں جو معیاری بیج کا کسان کو بتا سکے۔انہوں نے( ن) لیگ کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ پانی کی طے شدہ معاہدے کے باوجود نئی نہریں نکال لیتے ہیں،اکائیاں کمزور کرنے سے وفاق کیسے مضبوط ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پاسکو جیسا کوئی ادارہ تو بنا کر دکھائیں،کیوں اداروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔پیپلز پارٹی حکومتی فیصلوں کو ری وزٹ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔فیصل میر نے کہا کہ احسن اقبال کو زراعت کو کچھ پتا نہیں، نئی نہروں کو نکالنے سے پنجاب کا کاشتکار بھی متاثر ہو گا۔آل پاکستان پاسکو ایمپلائیز یونین سی بی اے کے صدر بابر علی نے کہا کہ پاسکو 14لاکھ میٹرک ٹن اور محکمہ خوراک 36لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدتا ہے،اس مرتبہ پنجاب نے گندم نہیں خریدی تو اس کابوجھ بھی پاسکو پر پڑا۔