میلبورن: سابق بھارتی کرکٹر اور بھارتی قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ سنجے بنگر کی بیٹی انایا بنگر نے آسٹریلیا میں ویمنز کرکٹ میں دوبارہ واپسی کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے ان کے کیس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مارچ 2027 سے ایلیٹ سطح کی خواتین کی کرکٹ میں واپسی کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے مقررہ اہلیت کے تقاضے پورے کرنا لازمی ہوں گے۔پریس کانفرنس میں انایا بنگر نے بتایا کہ ان کی واپسی خودکار طور پر نہیں ہوئی بلکہ کرکٹ آسٹریلیا کے Transgender and Gender Diverse Players in Elite Cricket Policy کے تحت ان کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے پینل نے ان کی طبی تاریخ، ہارمون اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح، کرکٹنگ پس منظر، کھیل کی ویڈیوز اور متعلقہ سائنسی و ایتھلیٹک معلومات کا جائزہ لیا۔کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق انایا فی الحال آسٹریلیا میں کمیونٹی سطح کی کرکٹ کھیلنے کی اہل ہیں، جبکہ مارچ 2027 میں ان کی ایلیٹ کرکٹ کی اہلیت کا اگلا مرحلہ طے ہوگا۔ اس مرحلے پر خون کا ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ مقررہ ٹیسٹوسٹیرون معیار کی تصدیق ہوسکے۔ موجودہ پالیسی کے مطابق خواتین کے ایلیٹ زمرے میں کھیلنے کی خواہش رکھنے والے کھلاڑی کے لیے مخصوص ٹیسٹوسٹیرون حد مسلسل کم از کم 12 ماہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔انایا نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا نے انہیں ایسا راستہ فراہم کیا ہے جس میں انصاف، مسابقتی شفافیت اور شمولیت کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کئی برس تک مسابقتی کرکٹ سے دور رہنے کے بعد ان کے لیے کھیل میں واپسی کی امید پیدا کرتا ہے۔انایا بنگر کا ہدف صرف دوبارہ کرکٹ کھیلنا نہیں بلکہ اعلیٰ سطح پر اپنی جگہ بنانا ہے۔
اگر وہ مارچ 2027 میں مطلوبہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتی ہیں تو وہ ایلیٹ ویمنز کرکٹ میں سلیکشن کے لیے دستیاب ہوسکیں گی، جس میں ویمنز بگ بیش لیگ (WBBL) کا راستہ بھی شامل ہے۔تاہم انایا نے واضح کیا کہ کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے انہیں کسی ٹیم میں جگہ کی ضمانت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ٹریننگ، مقابلے اور کارکردگی کے ذریعے اپنی جگہ حاصل کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی شناخت یا ماضی انہیں کسی ٹیم میں جگہ دلائے بلکہ ان کی کرکٹ کی کارکردگی ان کی پہچان بنے اور اسی بنیاد پر انہیں موقع ملے۔انایا سابق بھارتی کرکٹر سنجے بنگر کی بیٹی ہیں اور ماضی میں ممبئی کی انڈر 19 کرکٹ میں بھی کھیل چکی ہیں۔ اب آسٹریلیا میں واپسی کے لیے ان کی توجہ اپنی فٹنس، کھیل کی تیاری اور مسابقتی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔انایا کے لیے مارچ 2027 اس سفر کا اہم مرحلہ ہوگا، کیونکہ اسی وقت مقررہ طبی و اہلیتی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ان کے لیے ایلیٹ خواتین کی کرکٹ میں باقاعدہ سلیکشن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔یوں انایا بنگر کا معاملہ نہ صرف ان کے ذاتی کرکٹ کیریئر میں واپسی کا ایک اہم موڑ ہے بلکہ کھیلوں میں شمولیت، اہلیت کے اصولوں اور مسابقتی انصاف سے متعلق جاری عالمی بحث میں بھی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے۔