صحافیوں کی اموات پر اسرائیل کیخلاف دنیا بھر میں غم وغصہ

نیویارک(آئی  این پی ) عالمی برادری نے صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ میں صحافیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا  مطالبہ کردیا۔غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے گزشتہ روز غزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو فضائی حملے کیے گئے جس میں 5 صحافیوں سمیت 21 فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطینی صحافیوں پر وحشیانہ حملے نے اسرائیل کے خلاف عالمی غم و غصے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اسرائیلی حملوں میں شہادت پانے والے صحافیوں میں رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری، اے پی کی صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ، امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طحہ اور ایک فری لانسر احمد ابو طحہ شامل ہیں۔ متعدد ممالک کے سربراہان کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ، او آئی سی اور میڈیا اداروں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیلی حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سنگدل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت بے رحمی کے ساتھ اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ انسانیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کو تباہ کیا جا سکے۔ترکیہ کے صدارتی کمیونیکشن آفس کے سربراہ برہان الدین دوران نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسرائیل کے تازہ حملوں کو صحافت کی آزادی پر حملہ اور ایک اور جنگی جرم قرار دیا۔اپنی پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل، جو کسی انسانی یا قانونی اصول کی پرواہ کیے بغیر اپنی بربریت جاری رکھے ہوئے ہے، اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ صحافیوں پر منظم حملوں کے ذریعے سچ کو سامنے آنے سے روک سکتا ہے۔