محمد تسنیم رضا
انیس سو ستر کی دہائی میں جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا تو سب سے بڑا سبق یہ تھا کہ احساسِ محرومی کو اگربروقت دور نہ کیا جائے تو بھائیوں میں بھی اتحاد قائم نہیں رہتا۔ بنگلہ دیش کا قیام اس بات کی دلیل ہے کہ عوام کی زبان، وسائل اور شناخت کا احترام نہ ہو تو سیاسی نقشہ جتنا بھی مضبوط ہو بکھر سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سرائیکی صوبہ، ہزارہ اور بہاولپور کی تحریکیں اسی احساسِ محرومی کی بازگشت بنیں۔لیکن بعض وجوہ کی وجہ سے یہ تحریکیں کامیاب نہ ہو سکیں
سرائیکی صوبے کے حق میں تاج محمد لنگاہ صاحب کی جدوجہد کے بعد دو ہزار اٹھارہ میں ایک بار پھر سرائیکی صوبے کی لہر اٹھی، لیکن اس وقت یہ لہر وقتی سیاسی مفاد کے حصول کے لیے پیدا کی گئی تھی اور اس کے لء ے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے والے لوگ نون لیگ کے منحرف ارکان تھے۔ ان کا مقصد صرف نون لیگ کو نقصان اور ایک خاص جماعت کو فائدہ پہنچانا تھا۔اپنا مفاد حاصل کرنے کے بعد کسی نے سراء یکی صوبہ کا نام تک نہیں لیا۔
ہزارہ خطہ صوبہ خیبرپختونخوا کے شمال مشرق میں واقع ہے، جس میں ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔ ہزارہ کے عوام طویل عرصے سے اپنا الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہاں زیادہ تعداد ہندکو بولنے والوں کی ہے۔چونکہ وہ لسانی لحاظ سے پختونوں سے الگ ہیں اس لء ے وہ الگ صوبے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔دو ہزار چودہ میں صوبے کے قیام کے مطالبیکی تحریک شدت اختیار کر گئی، اور 2015 میں ہزارہ صوبہ محاذ کے نام سے تنظیمیں بنائی گئیں تاکہ مطالبات پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے رکھے جائیں۔ وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی اتفاق رائے کی کمی اور آئینی ترامیم کی ضرورت کی وجہ سے صوبہ ہزارہ بھی صرف مطالبات تک ہی محدود رہا۔
بہاولپور ایک الگ خود مختار ریاست تھی جو اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئی، جسے بعد میں پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ وہاں کے لوگ اپنی الگ شناخت اور انتظامی خود مختاری چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے بہاولپور کو الگ صوبہ بنانیکا مطالبہ کیا ، لیکن مضبوط سیاسی اور آئینی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ مطالبہ بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ 2010 کی دہائی میں بھی بہاولپور کے صوبے کے حق میں سیاسی حلقوں اور پارلیمانی سطح پر بات ہوتی رہی لیکن سب سیاسی بیان بازی تک ہی رہا اور عملی طور کچھ ممکن نہ ہو سکا
اب ایک بار پھر نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی جا رہی ہے۔ کچھ حلقوں کی رائے ہے کہ اگر صوبے زیادہ ہوں تو عوام کی حکومت تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ یہ خیال اپنی جگہ درست ہیلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محض صوبے بڑھا دینا مسائل کے حل کی ضمانت نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جو صوبے ہمارے پاس موجود ہیں، ان میں اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کیا جائے، اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور طرز حکمرانی کو بہتر اور شفاف بنایا جائے۔
کہا جاتا ہے کہ بھارت نے زیادہ صوبے بنا کر ترقی کی۔ یہ بات کسی حد تک تو درست ہے، لیکن وہاں صرف صوبوں کی تعداد نہیں بڑھی بلکہ ادارے بھی مضبوط کیے گئے۔ عدلیہ آزاد ہوئی، بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ ملا اور مقامی حکومتوں کو بجٹ و اختیار دیا گیاتو ہی یہ ترقی ممکن ہو پاء ی اگر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہ کیا جاتا تو ترقی کا یہ سفر کبھی بھی ممکن نہ ہو پاتا
چین کی مثال لیجیے؛ وہاں "صوبوں" کے بجائے مقامی حکومتوں کو معاشی و انتظامی آزادی دی گئی، جس کی وجہ سے ترقی کا سفر تیز ہوا۔ برازیل میں بھی بلدیاتی حکومتیں تعلیم اور صحت کے بڑے فیصلے خود کرتی ہیں۔ ترکی جیسے ممالک میں بھی صوبوں کے ساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔
ہم ان تمام ممالک کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صوبے کم ہوں یا زیادہ، لیکن ایک بات سب میں مشترک ہے کہ وہاں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا۔ اگر ہم بھی انہی خطوط پر آگے بڑھیں تو ممکن ہے کہ چار صوبے ہی عوام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہوں۔
پاکستان کے بڑے مسائل سب کے سامنے ہیں۔ تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کی کمی۔ ان مسائل نے عام آدمی کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ شہروں میں گندگی کے ڈھیر، پینے کے پانی کی قلت، ٹوٹے پھوٹے راستے اور عدالتوں میں برسوں تک زیر التوا مقدمات یہ سب اس وجہ سے نہیں کہ صوبے کم ہیں، بلکہ اس وجہ سے بھی ہیں کہ ہمارے موجودہ صوبے اختیارات نیچے منتقل نہیں کرتے۔ اگر یہی صوبے اپنے وسائل کا ایک حصہ ضلعی اور تحصیلی سطح پر دے دیں، اور ہر سطح پر منتخب نمائندوں کو حقیقی طاقت مل جائے، تو عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے در در بھٹکنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہ حقیقت بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ لسانی یا نسلی بنیادوں پر صوبے بنانے سے یکجہتی کے بجائے انتشار بڑھ سکتا ہے۔سندھی ،پنجابی ،بلوچی ،پختون کی تقسیم تو پہلے ہی ہے ۔اس لسانی تقسیم نے اب تک تو پاکستان کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔بلوچی ،پنجابی سے نفرت کرتا ہے ،پختون بھی نفرت سے دیکھتا ہے اور سندھ میں بھی کوء ی اتنے محبت کے جذبات نہیں پاء ے جاتے تو مزید لسانی تقسیم کیا گل کھلاء ے گی یہ بتانے یا سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے
سرائیکی صوبہ، بہاولپور یا ہزارہ کی تحریکیں ماضی میں دیکھی جا چکی ہیں، اور ان کی مخالفت بھی کی جا چکی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم ان مطالبات کے پیچھے پوشیدہ احساسِ محرومی کو ختم کریں۔ اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور عوام کو تعلیم و صحت کی سہولت قریب ملے تو ممکن ہے نئے صوبے بنانے کی ضرورت کم پیش آئے۔
ہمارے ملک کا سب سے بڑا بحران طرزِ حکمرانی ہے۔ ہمارے ادارے کمزور ہیں، قانون کی بالادستی محدود ہے اور موروثی سیاست نے نظام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اصلاحات کی طرف بڑھیں۔ اگر ہر ضلع کو اس کے حصے کا بجٹ دیا جائے، مقامی حکومتیں فعال ہوں اور وسائل کی تقسیم شفاف ہو تو عام آدمی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اسی میں پاکستان کی خوشحالی چھپی ہے
یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں اورآئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ا س کے علاوہ موجودہ صوبوں کی تقسیم ہماری حکمران سیاسی جماعتوں کے مفادات کیبھی خلاف جاتی ہے۔ یہ جماعتیں زبانی کلامی تو ہو سکتا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی بات کرتی رہیں، لیکن یہی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائیں گی۔ البتہ جیسے ماضی میں الیکشن کے دنوں میں سرائیکی صوبے کی بات کر کے عوام سے ووٹ لیے گئے تھے، لیکن بعد میں کسی نے نام تک نہیں لیا، ضرورت پڑنے پر پھر اسی طرح عوام کو بہکایا جائے گا، اور ہم عوام بہک بھی جائیں گے۔ جو حکمران اپنے دور حکومت میں عوام کی بھلائی کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کو تیار نہیں، وہ نئے صوبوں کے قیام کو کیسے ممکن ہونے دیں گے جہاں ان کو حق حکمرانی حاصل نہ ہو۔
اسی لیے فی الحال زیادہ مؤثر راستہ یہی ہے کہ موجودہ صوبوں میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے۔ یہ حل آئینی طور پر بھی ممکن ہے اور عملی طور پر بھی۔
ویسے بھی مسائل کے حل کا تعلق تعداد سے نہیں بلکہ معیار سے ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، حکمرانی شفاف ہو اور عوامی شمولیت بڑھے تو چار صوبے بھی ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہی مسائل برقرار رہیں تو چاہے 33 صوبے بن جائیں یا 100، عوام کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ قومی اتفاقِ رائے اور تعمیری سوچ ہے۔ ہمیں اپنی توانائی اس بات پر صرف کرنی چاہیے کہ عوام کو سہولت کیسے فراہم کی جائے، انصاف کیسے عام کیا جائے اور تعلیم و صحت کو سب کے لیے قابلِ رسائی کیسے بنایا جائے۔ اگر یہ مقاصد حاصل ہو جائیں تو ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن ان مقاصد کے حصول کا سب سے بہتر طریقہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی ہے