امریکی وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے بھارت میں سیاسی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
اس واقعہ کے بعد بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں کانگریس کے رکنِ اسمبلی وجے وڈیٹیوار کے ایک بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔وجے وڈیٹیوار نے کہا ہے کہ یہ فائرنگ واقعہ امریکی عوام کے غصے کے سبب ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت میں بھی اسی قسم کا ماحول موجود ہے، حالانکہ یہاں سڑکوں پر احتجاج نظر نہیں آتا۔ وڈیٹیوار کا یہ بیان اس تناظر میں آیا ہے کہ ان کا مؤقف تھا کہ جب حکمران عوام کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں تو ایسے ردعمل پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس بیان پر بی جے پی نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سیاسی تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا کا کہنا ہے کہ کانگریس کے ایم ایل اے نے اپنے مفادات کے لیے بھارت اور حکمراں جماعت کو بدنام کرنے کے لیے یہ ناپسندیدہ بیان دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی عوام بی جے پی کے ساتھ ہیں اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ اس تنازع نے بھارت میں سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے، جس میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال بھارت میں سیاسی اختلافات اور بیانات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، اور اس کا اثر داخلی سیاست اور عوامی رائے پر بھی پڑ رہا ہے۔