نے سیلاب پر سیاست کی ، پنجاب کی فکر چھوڑیں ، سندھ کا حال دیکھیں عالمی امداد کے مشورے اپنے پاس رکھیں ،بی آئی ایس پی کے 10ہزار سے متاثرین کا کچھ نہیں بنے گا، 10لاکھ دینگے پیپلزپارٹی :مریم نواز
جنوبی پنجاب کا کیا قصور؟ بے گھر لوگ سڑکوں پر ہیں ، انکی مدد کیوں نہیں کی جاتی،سیلاب متاثرین کی مددانا کامسئلہ کیوں ؟،عالمی مددنہ مانگنے پرتشویش ہے،ٹیکس مد میں کسانوں کو ریلیف دیں :بلاول
لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک )سیلاب متاثرین کی امداد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور بلاول بھٹو میں لفظی جنگ چھڑ گئی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیلاب پر سیاست کی ، ایک باعزت شخص کہہ رہا ہے کہ حکومت دنیا سیامداد کی اپیل کیوں نہیں کرتی،میں ان کو کہنا چاہتی ہوں یہ مشورے اپنے پاس رکھیں ،نوازشریف کی بیٹی ہوں، امداد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلائوں گی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 10 ہزار روپے سے سیلاب متاثرین کا کچھ نہیں بنے گا،انہیں 10لاکھ دیں گے،پنجاب کی فکر چھوڑیں ،سندھ کا حال دیکھیں۔ڈیرہ غازی خا ن میں الیکٹرک بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری اتحادی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، انہوں نے پنجاب میں سیلاب کے معاملے پر سیاست کی، صدر آصف زرداری میرے بڑے اور بلاول میرے چھوٹے بھائی ہیں،یہ پیپلز پارٹی کے ترجمانو ں کو سمجھائیں سیلاب کے معاملے میں سیاست کی جا رہی ہے، سندھ میں کوئی آفت آتی ہے تو پنجاب والیساتھ کھڑے ہوتے ہیں، سندھ کا کیا حال ہے، ابھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کیلئے بی آئی ایس پی کے 10ہزار روپے سے کچھ نہیں بنے گا، مریم نواز نے سیلاب متاثرین کو 10 ہزار روپے نہیں دینے بلکہ ان کو 10 لاکھ روپے دینے ہیں ، میں سب کے گھر تعمیر کرنا چاہتی ہوں،میں حلفاً یہ بات کرتی ہوں کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ایک روپیہ نہ لیا ہے اور نہ مانگا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے بلاول بھٹو زرداری کا نام لئے بغیر کہا کہ آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، پنجاب خود معاملات سنبھال لے گا، ہمیں جو این ایف سی سے اربوں، کھربوں روپے ملتے ہیں، وہ کس لئے ہیں اگر صوبوں نے وہ پیسے عوام پر خرچ نہیں کرنے تو وہ کیا صرف بینک میں رکھنے کیلئے ہیں؟۔ میرے لئے جنوبی ،وسطی اور اپر پنجاب میں کوئی فرق نہیں، سب برابر ہیں اور سب کی وزیر اعلیٰ ہوں،سنٹرل پنجاب میرے لئے ماہ نور کی طرح، اپر پنجاب مہرالنسا کی طرح اور جنوبی پنجاب میرے لئے جنید بیٹے کی طرح ہے،جنوبی اوروسطی پنجاب کی بات اقتدار کی ہوس رکھنے والے لوگ کرتے ہیں،جنوبی پنجاب میں سارے پراجیکٹ مسلم لیگ ن لے کر آئی۔ مریم نواز نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کیلئے 101 الیکٹرو بسیں فراہم کی جائیں گی جبکہ جلد ہی ڈیرہ غازی خان میں میٹرو بس سروس بھی شروع کی جائے گی۔ راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ اور تونسہ سمیت ہر ضلع میں الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے جنوبی پنجاب میں ہرماہ سیکرٹریٹ لگانے اعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی،مریم نواز پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی۔ میانوالی میں پتھر مار کر الیکٹرو بس کا شیشہ توڑنے والے کو پکڑ لیا ہے، نشان عبرت بنائیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کی جائے، گزشتہ سیلاب میں بھی وفاقی حکومت نے یہی کام کیا اور کوویڈ کی وبا کے دوران بھی ہم نے یہی کیا تھا،سیلاب متاثرین کی مددکو انا کا مسئلہ کیوں بنالیاگیا ،جنوبی پنجاب کا کیاقصور ہے ،بے گھر لوگ سڑکوں پرہیں ،ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی۔ وزیراعلیٰ ہائوس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سیلاب کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال عالمی برادری سے مدد نہ مانگنے پر ایک بار پھر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نے سیلاب متاثرین کو بی آئی ایس پی کے ذریعے امداد دینے کی درخواست کی تھی، وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے بل معاف کئے۔ بلاول بھٹو نے کہا وفاقی حکومت زرعی ایمرجنسی، گندم خریداری اور امدادی قیمت نہ دینے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات کرے جبکہ ٹیکس کی مد میں بھی کسانوں کو ریلیف دیا جائے۔ صوبہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں سیلاب سے نقصان بہت زیادہ ہے، پنجاب حکومت کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے کسانوں کے نقصانات پورے کرنے کا اعلان کیا لیکن سیلاب کے دوران کسانوں کی مدد بہت ضروری ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کسانوں کی مدد کریں، وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ پنجاب، گلگت بلتستان اور کے پی میں کسانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سب سے زیادہ بینیفشری پنجاب سے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف بیان بازی کرنے والے شاید اس پروگرام سے اچھی طرح واقف ہی نہیں۔چیئرمین پی پی نے کہا میں نے وفاقی حکومت کی سندھ پر تنقید کبھی نہیں سنی، پنجاب حکومت کے وزرا اگر تنقید کرتے ہیں تو امید ہے یہ ان کے ذاتی خیالات ہوں گے لیکن پارٹی پالیسی نہیں۔ عالمی امداد کی اپیل کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ وفاق کا کام ہے، وفاقی حکومت یہ اپیل کیوں نہیں کر رہی، یہ سوال بھی ان ہی سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا جہاں تک میرے کزنز کی سیاست میں انٹری کی بات ہے تو وہ کافی عرصے سے سرگرم ہیں، اگر وہ اب مزید کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ بلوچستان کے مسئلے کا فوجی حل ہر گز نہیں لیکن مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ دوسری طرف سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کو مفت پنک سکوٹیز کی تقسیم شروع کر دی گئی،گزشتہ روز ایک تقریب میں بلاول بھٹو نے خواتین و طالبات کو پنک سکوٹیز کی چابیاں دیں اور کہا جلد خواتین کیلئے پنک ٹیکسیاں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔