ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے:جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیخلاف تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج

میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا گیا ،  ڈگری اصلی ہے ‘ امتحان میں بھی بیٹھا تھا‘34 برس بعد جعل سازی کر کے ڈگری کو متنازعہ بنایا گیا
 میرے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیں ‘ کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں کئے، مجھے کم از کم سماعت کا موقع دیا جائے:سندھ ہائیکورٹ کے سامنے موقف
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے  ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ کے روبرو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ انہوں نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، انہیں کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔، میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا گیا ہے، میری ڈگری اصلی ہے اور میں امتحان میں بھی بیٹھا تھا۔انہوں نے کہا  34 برس بعد جعل سازی کر کے ڈگری کو متنازع بنایا گیا، میرے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے، میں نے کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں کیے، مجھے کم از کم سماعت کا موقع دیا جائے، پھر چاہے میرے خلاف فیصلہ دیا جائے۔فریقین کے وکلا نے کہا کہ پہلے ہمارے اعتراضات کا فیصلہ کیا جائے اور بعد میں درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے، اس کے بعد تمام درخواست گزاروں کے وکلاء￿  کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے اور عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں۔