بلغراد: سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی حکومت مخالف تحریک نے پارلیمانی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرلی، جس کے بعد طویل عرصے سے سربیا کی سیاست پر اثرورسوخ رکھنے والے رہنما الیگزینڈر ووچچ نے اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرلی۔
ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ووچچ نے اتوار کی رات اعتراف کیا کہ اگرچہ انتخابات کے حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ان کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کامیاب رہی ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک کو پارلیمان کی 250 نشستوں میں سے 135 سے 140 نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی گئی، جبکہ ووچچ کی سربیئن پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کے حصے میں تقریباً 105 نشستیں آنے کا امکان بتایا گیا۔ یہ اعداد و شمار ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں اور حتمی انتخابی نتائج سے مختلف ہوسکتے ہیں۔
دو سالہ احتجاجی تحریک انتخابی کامیابی میں بدل گئی
سربیا میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کا آغاز نومبر 2024 میں نووی ساد شہر کے ریلوے اسٹیشن پر سائبان گرنے کے واقعے کے بعد ہوا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سانحے نے ملک میں انتظامی غفلت، مبینہ بدعنوانی اور حکومتی احتساب کے حوالے سے شدید عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔ابتدا میں طلبہ نے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ مظاہرین نے حکومتی اداروں میں شفافیت، بدعنوانی کے خاتمے اور ریاستی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شروع کردیا۔تقریباً دو سال تک جاری رہنے والے مظاہروں نے طلبہ تحریک کو ملک کی ایک نمایاں سیاسی قوت بنا دیا۔ تحریک نے روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے امیدواروں کے طور پر سامنے لانے کی حکمت عملی اختیار کی، جس میں ڈاکٹرز، اساتذہ، ماہرین تعلیم اور دیگر شعبوں کے افراد شامل تھے۔
ووچچ کی سیاسی حکمت عملی کو دھچکا
الیگزینڈر ووچچ 2014 سے سربیا کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ پہلے وزیراعظم اور بعد میں صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ آئینی مدت کی پابندی کے باعث وہ تیسری مرتبہ صدر منتخب نہیں ہوسکتے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی جماعت کی قیادت کرتے ہوئے دوبارہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ووچچ کی جماعت طویل عرصے سے ملک کے سیاسی نظام پر غالب رہی ہے، تاہم طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے ان کے لیے ایک بڑا انتخابی چیلنج کھڑا کردیا۔ کومت مخالف مظاہرین نے ووچچ کی حکومت پر بدعنوانی اور اختیارات کے ارتکاز کے الزامات عائد کیے، جن کی ووچچ اور ان کی جماعت تردید کرتے رہے ہیں۔قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا مقصد نئی پارلیمان تشکیل دینا اور سیاسی صورت حال کا فیصلہ انتخابی عمل کے ذریعے کرنا تھا۔ تاہم ابتدائی نتائج نے ووچچ کی جماعت کے لیے غیر متوقع صورت حال پیدا کردی۔
ریکارڈ ووٹنگ ٹرن آؤٹ اور طلبہ تحریک کا کردار
انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ ٹرن آؤٹ گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، جسے طلبہ تحریک کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست نے ان شہریوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جو بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سیاسی نظام میں تبدیلی چاہتے تھے۔ تحریک کے امیدوار الیا سردانووچ نے کہا کہ سربیا ایک آزاد ریاست بنے گا، جبکہ تحریک کے رہنماؤں نے ملک کو مبینہ جبر سے آزاد کرانے اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔