کراچی وکلا کا وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب احتجاجی ریلی، پولیس سے تصادم

کراچی وکلا کا وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب احتجاجی ریلی، پولیس سے تصادم

کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کارونجھر پہاڑ کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کا مقصد علاقے میں جاری اس غیر قانونی سرگرمی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

 یہ ریلی سندھ ہائیکورٹ سے شروع ہو کر وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچی، جہاں وکلا نے اپنی مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ریلی کے دوران، جب وکلا وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پہنچے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس اقدام پر وکلا اور پولیس کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ تصادم کے دوران، کئی وکلا کنٹینر پر چڑھ گئے اور احتجاج جاری رکھا۔ پولیس اور وکلا کے درمیان دھکم پیل، مار پیٹ اور لاتوں، گھونسوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

کراچی بار کے صدر، عامر وڑائچ، کا کہنا ہے کہ یہ ریلی تھرپارکر کے علاقے کارونجھر پہاڑ میں جاری غیر قانونی کٹائی کے خلاف نکالی گئی تھی، کیونکہ یہ سرگرمی ماحولیاتی نقصان کا سبب بن رہی ہے اور مقامی آبادی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر کارونجھر پہاڑ کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرے اور غیر قانونی کٹائی کو روکے۔

مجموعی طور پر، یہ احتجاجی مظاہرہ مقامی ماحولیاتی تحفظ اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے ایک اہم آواز تھا، جس میں وکلا نے اپنی تنظیم کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ کے لیے اہم موقف اپنایا۔