کراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں سیکیورٹی تھریٹس سے متعلق اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ حالات کے پیش نظر صوبے بھر کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ماضی کے واقعات اور حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ائیرپورٹ پر غیر ضروری رش کو کم کرنے کے لیے پک اینڈ ڈراپ کے دوران صرف ایک سے دو افراد کو آنے کی اجازت ہوگی تاکہ سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے، اس لیے اس شہر کی سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط کیا جائے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تیار کیے جائیں۔وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ صوبے کی تمام جیلوں میں تلاش ایپ ڈیوائس کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور اسنیپ چیکنگ، پکٹنگ اور کومبنگ آپریشنز کے دوران اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے صوبے کے تمام داخلی اور خارجی پوائنٹس پر لیڈی سرچرز کی موجودگی کو لازمی قرار دیا تاکہ تلاشی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اسلحہ کی نمائش کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرنے اور نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ وزیر داخلہ نے کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مشکوک افراد کی نگرانی ممکن ہو سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریلوے اسٹیشنز، بس ٹرمینلز، ٹرک اڈوں اور دیگر مال برداری کے مراکز پر کڑی نگرانی رکھی جائے اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔وزیر داخلہ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔