یکم مارچ سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

یکم مارچ سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد کمی کے باوجود پاکستان میں یکم مارچ سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 4 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) اور مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا تخمینہ بین الاقوامی نرخوں میں معمولی اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ بینچ مارک برینٹ کی قیمتوں میں گزشتہ 10 دنوں کے دوران استحکام دیکھا گیا ہے۔فی الحال، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 256 روپے 13 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 263 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہے۔دوسری جانب، پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ڈی ریگولیٹ فارمولہ عائد کرنے سے پیٹرولیم اسمگلنگ اور ملاوٹ کا مسئلہ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم پمپ اپنے نرخ خود طے کرنے لگیں گے جس سے عوام کو نقصان ہو سکتا ہے۔

عبدالسمیع خان نے مزید کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن فی لیٹر 13 روپے کرنے کی درخواست کی جائے گی، جبکہ اوگرا نے اس فارمولے کی حمایت کی لیکن وزارت پیٹرولیم کے سامنے اپنی حمایت کا کھل کر اظہار نہیں کیا۔ پیٹرولیم ڈیلرز نے ایران سے پیٹرولیم اسمگلنگ کے بڑھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور وفاقی حکومت سے ایران کے ساتھ قانونی معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔پیٹرولیم ڈیلرز نے وزارت پیٹرولیم کو ہنگامی خط بھی لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ڈی ریگولیشن فارمولے کی مخالفت کی جائے گی اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی درخواست کی جائے گی۔