واشنگٹن کو اسرائیلی بیانات پر غصہ، عرب ممالک امن عمل سے دور ہو سکتے ہیں

واشنگٹن کو اسرائیلی بیانات پر غصہ، عرب ممالک امن عمل سے دور ہو سکتے ہیں

واشنگٹن نے اسرائیل کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں نئی بستیوں سے متعلق ہیں۔

 امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل کے لیے نقصان دہ ہیں اور عرب ممالک کو ممکنہ امن مذاکرات سے دور کر سکتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی اعلیٰ سطحی ذرائع نے اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے حالیہ بیانات پر شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کاتز نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم امریکی اعتراضات کے بعد انہوں نے وضاحت دی کہ یہ عارضی فوجی رہائشی مراکز ہیں۔ باوجود اس کے، انہوں نے دوبارہ کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔

یہ بیانات وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مؤقف سے ہم آہنگ سمجھے جا رہے ہیں، جو امریکی صدر سے ملاقات میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان مستقل سرحد کی منظوری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی حالیہ عرصے میں مزید بڑھ گئی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر پر 14 ممالک کی جانب سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراضات جانبدارانہ اور امتیازی نوعیت کے ہیں۔