"مون سون کے اسپیلز: 800 ہلاک، 1100 زخمی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دی"

اسلام آباد: قومی ادارہ برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) نے حالیہ مون سون کی صورتحال پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کو بریفنگ دی ہے۔

 چیئرمین جنید اکبر خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے بتایا کہ ملک میں حالیہ مون سون کے 7 اسپیل مکمل ہو چکے ہیں اور 8 واں اسپیل 2 سے 11 ستمبر تک متوقع ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق، ملک میں مون سون کی بارشیں معمول سے 22 فیصد زیادہ شدت کے ساتھ ہوئیں، جس کے نتیجے میں اب تک 800 افراد ہلاک اور 1100 زخمی ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن ریلیف کا سامان پہنچایا جا چکا ہے اور ادارہ ہر ایک متاثرہ شخص تک امداد پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق دی گئی تمام رپورٹس درست ثابت ہوئی ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے ماحولیاتی خطرات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں 2 ڈگری اضافہ ہوتا ہے تو اگلے 52 سال میں پاکستان کے 65 فیصد گلیشیئر پگھل جائیں گے، جس سے مستقبل میں پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی حالات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مون سون کے دوران حفاظتی اقدامات پر عمل کریں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں۔