دوستوں کا ہجوم

تحریر:غلام علی جاوید

انسان انس سے نکلا ہے جس کا مطلب پیارو محبت ہے محبت اور انسان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہر شخص اپنے لئے پیار کا بھوکا ہے۔وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے دوسرے انسانوں سے دوستی کرتا ہے۔ لفظ دوست اپنے اندر شہد جیسی مٹھاس سموئے ہوئے ہے ۔ جیسے ہی لفظ دوست یا دوستی بولتے ہیں منہ میں ایک شیرینی سی محسوس ہوتی ہے۔ انسان کسی بھی عمر میں ہو اس کو اپنے مزاج اور ہم عمر لوگوں سے دوستی کرنا پسند ہوتی ہے ۔ دوستی تب ہوتی ہے جب راز اور مزاج مل جائیں۔خیالات ، نظریات اور مشاغل ایک جیسے ہوںتو دوستی بامِ عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ دوستوں کی بابت مختلف لوگوں کے مختلف نظریات ہیں۔دوست کا مطلب ہے دو دست جو ہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار ہوں۔ ہر انسان دوستی کو اپنے ظرف اور تجربات کے پیرائے میں دیکھتا ہے۔کسی نے دوستی کو بچھو سے تشبیہ دی کسی نے دوستوں کو دشمنوں کے بھیس میں دیکھا ۔
؎    دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف        اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
 کسی نے دوست کو نعمتِ خداوندی سمجھااور اسے پہلوئے چاہت میں چھپا لیا ۔ جس شخص کی طبیعت میں جلدی رچنے بسنے کی عادت ہوتی ہے اس میں جلدی چھوڑ جانے کی خصلت بھی ہوتی ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیںدوست سے زبانی ہمدردی کر کے جان چھڑا لو، روٹی کے دوست کو روٹی کھلائواور گھر سے نکال دو لیکن یار جانی کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دوبلکہ اگر ایسے دوست پر جان بھی دینی پڑے تو دریغ نہ کرو۔کسی لکھنے والے نے تو دوستی کے اسرار و رموز میں یہ بھی کہہ دیا کہ دوستی وہ پاک جذبہ ہے جس کی عظمت زمین اور آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔خلیل جبران نے کہا دوست کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ احمد فراز نے کہا تھا کہ
؎    تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز   ؔ        دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہ کس حد تک درست ہے اس کا تو علم نہیں مگر انسان کی کامیابی کے پیچھے دوستوں کا تعاون ضرور ہوتا ہے۔ سکول کالج کی زندگی ہو یا یونیورسٹی کا زمانہ ،  امتحان میں نقل سے لے کر انسا ن کو چاند تک پہنچانے میں دوستوں کا ہی ہاتھ ہے۔دوست ہوں یا سہیلیاںنہ صرف مشکل وقت کا سہارا ہوتی ہیںبلکہ خوشیوں کی شراکت دار ہوتی بھی ہیں۔جب دلہن کو شادی کے دن سجایا جاتا ہے تو سہیلیوں کی خوشیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں ۔ دوسری طرف جب دولہا کی بارات نکلتی ہے تو دوستوںکی خوشیاں بھی دیدنی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی دولہے کی بارات سسرال پہنچتی ہے تودوستوں کی شوخیوںمیں حرارت آجاتی ہے۔ وہ حرارت بعض اوقات کسی کے دل تک جاپہنچتی ہیجس  کا حملہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ سلطنتِ قلب کی فضا میں تا عمراس کے اثرات رہتے ہیں۔  
مطلبی دوستوں کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں ہے جدھردیکھو منافقت اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھے آ دھمکیں گے ۔ ایسے لوگ عموماً یا توجھوٹی تعریف کے پُل باندھتے ہیںیا ہمدردی کا مصنوعی عکس پیش کرتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ اپنی برتری اور تعلقات کا راگ الاپتے ہیں ۔ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ یہ ملک کے تمام اہم ستونوں سے رابطے میںہیںاور وہ ستون ان کی پہنچ میں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ انسان کی کمزوری پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کمزوری دیکھ کر بندے کو اپنے جال میں پھنسانے کی سعی کرتے ہیں۔یہ شعبدہ بازوں سے کم نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ زندگی کا تجربہ ہوتے ہیں جو اچھے اور برے لوگوں کی پہچان کا سبق دے جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے دور رہنا ہی بہتر ہوتا ہے کیوں کہ اِن کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی بری ہوتی ہیں۔یہ انسان کی طاقت ، دولت، شہرت، ظاہری ٹھاٹھ باٹھ اور حسن کو دیکھ کر تعلقات کی دیوار کھڑی کرتے ہیں اور ابن الوقتی کی عملی تصویر بنتے ہوئے مفادات کے حصول تک ہی محدود رہتے ہیں جیسے ہی مطلب نکلا ’’توں کون تے میں کون‘‘ ۔ایک بات میں اکثر کہا کرتا ہوں آپ بھی یاد رکھنا!جو آپ کی چمک دمک دیکھ کر آپ سے دوستی کریںان کی دوستی کی ضرورت نہیں یاجو لوگ آپ کی غربت دیکھ کرچھوڑیں، ان کی دوستی سے سے تنہائی ہی بہتر ہے اور ہاں وہ لوگ جو آپ کے سادہ کھانوں کی وجہ سے دور ہو جائیں اور آنا جانا چھوڑ جائیں ان کو بھی اللہ حافظ ہی کہنا بہتر ہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں مفلس ہے وہ شخص جو مخلص دوست نہ پا سکااور اس سے بھی مفلس ہے وہ شخص جس نے کسی مخلص دوست کو پایا اور پھر اُسے کھو دیا۔ انسان کا عروج ہو تو دوستوں کا ہجوم رہتا ہے۔ آس پاس دوست ہی دوست نظر آتے ہیں مگر دوست وہ جو مصیبت کے وقت کام آئے۔پرانے وقتوں میں فقط اخلاص کے ترازو پر دوستوں کو تولاجاتا تھا مگر نجانے اب اعلیٰ ظرفی کے پرندے کس طرف اڑ گئے ؟