قدرت کاانتقام

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زمانہ اپنے سینے میں صرف واقعات نہیں چھپاتا،بلکہ تکبرکی داستانیں اوران کے انجام بھی محفوظ رکھتاہے۔تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توان میں صرف جنگوں کی گونج نہیں سنائی دیتی،بلکہ غرورکے ٹوٹنے کی کرچیاں بھی چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔یہ ایک ازلی قانون ہیایسا قانون جونہ کسی سلطنت کے سامنے جھکتاہے،نہ کسی سرمایہ کے آگے بکتاہے۔
غرور یہ محض ایک اخلاقی عیب نہیں،بلکہ ایک ایسادعوی ہے جودراصل خدائی صفت کوچیلنج کرتاہے۔احادیثِ مبارکہ میں آیاہے کہ کبریائی اللہ تعالی کی چادرہے اورچادر وہ ہوتی ہے جسے کوئی دوسراچھوئے توگستاخی شمار ہوتی ہے۔جب ایک معمولی انسان کسی دوسریانسان کی چادرکوکھینچنے کی جسارت کرے تووہ معاف نہیں کیاجاتا،توپھریہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ریاست ،کوئی اقتدار، کوئی سرمایہ داراللہ کی چادرِکبریائی کوچھونے کی جسارت کرے اورعذاب سے محفوظ رہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جسے دبئی کی چمکتی ہوئی عمارتوں،شیشے کے میناروں،اورمصنوعی جزیروں کے درمیان فراموش کردیاگیا۔جب دولت کوتقدیرسمجھ لیاجائے،اورطاقت کودائمی مان لیا جائے ،تو انسان حقیقت سے دورہوجاتاہے۔متحدہ عرب امارات اوراس کے متکبر اتحادی بھی اسی فریب کاشکارہوئے،انہوں نے یہ گمان کیاکہ سرمایہ ان کاحصارہے،اورعالمی تعلقات ان کی ڈھال،مگرتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے کبریائی کے میدان میں قدم رکھا،اسے اپنی اوقات یاددلادی گئی۔فرعون کے محلات ہوں یاقارون کے خزان،یہ سب ایک لمحے میں نشانِ عبرت بن گئے۔آج اگرمشرقِ وسطی میں ایک نئی داستان رقم ہورہی ہے،تووہ دراصل اسی ازلی حقیقت کی ایک تازہ تفسیر ہے۔یہ تحریرمحض سیاسی تجزیہ نہیں،بلکہ ایک آئینہ ہے،ایساآئینہ جس میں ہم طاقت کے نشے،غرورکے فریب،اورتقدیرکے انتقام کوایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔
زمانہ ہمیشہ اپنے سینے میں ان کہی داستانوں کاایک طوفان چھپائے رکھتاہے۔جب یہ طوفان سطح پرآتاہے توتاریخ کے اوراق لہوسے رنگین ہوجاتے ہیں،اورقومیں اپنے فیصلوں کی قیمت اداکرتی ہیں۔مشرقِ وسطی  کے افق پرجب سے جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں توتوپ وتفنگ کی گھن گرج سے پہلے ہی خاموشی کاایک عجیب دبیزپردہ چھاگیاہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کی تقدیریں لکھی جاتی ہیں۔آج ایک ایسی ہی خاموش جنگ کے آثارنمایاں ہیں،ایک ایسی جنگ جس میں بارودکی بوکم اورحکمتِ عملی کی چالیں زیادہ کارفرما ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے جب اوپیک کی صف سے علیحدگی اختیارکی توبظاہریہ ایک راست قدم اورمعاشی فیصلہ تھا،مگراس کے پسِ پردہ سیاسی ارتعاشات کی ایک پوری دنیاپوشیدہ تھی ۔درحقیقت یہ سیاسی شطرنج کی ایک خطرناک چال تھی ایسی چال جس میں مہرے توحرکت میں تھے مگربساط کی نزاکت کاادراک نہ تھا۔یہ فیصلہ گویاایک ایسے پتھرکی مانندتھاجو پرسکون جھیل میں پھینکاجائے اوراس کی لہریں دورتک پھیلتی چلی جائیں۔
سعودی عرب،جو اس خطے میں توازنِ طاقت کامحورہے،اورپیٹروڈالرکی شہ رگ کامحافظ ہے،اس فیصلے کونہ صرف محض ایک اختلاف اورپشت میں پیوست خنجرکے مترادف سمجھا بلکہ اس اقدام کوصرف ایک اقتصادی اختلاف نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک چیلنج کے طورپردیکھاگیا۔یواے ای نے شایدیہ گمان کیاکہ سرمایہ،انفراسٹرکچر،اورعالمی روابط اسے ہربحران سے نکال لیں گے مگروہ اس بنیادی حقیقت کونظراندازکربیٹھاکہ جغرافیہ ،یہ خاموش مگرفیصلہ کن قوت ہرمصنوعی طاقت پرغالب آجاتاہے، اوریواے ای نے یہ بھی نہ جاناکہ اس کاجواب توپوں سے نہیں بلکہ جغرافیہ کے بے رحم قانون سے دیاجائے گا۔جغرافیہ نہ صرف راستے بناتاہے بلکہ راستے بندبھی کردیتاہے؛یہ نہ صرف قربت پیداکرتاہے بلکہ تنہائی بھی مسلط کر دیتاہے۔
جغرافیہ ،یہ وہ خاموش قوت ہے جونہ صرف سرحدیں بناتاہے بلکہ سلطنتوں کے عروج وزوال کافیصلہ بھی کرتاہے۔یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے یواے ای کی مشکلات کاآغازہوا۔اس نے دولت کی چمک میں جغرافیے کی سختی کوبھلادیا،اورجب حقیقت نے دروازہ کھٹکھٹایاتووہ اس کیلئے تیارنہ تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب یواے ای کوپہلی باراحساس ہوناچاہیے تھاکہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی نہیں بلکہ مفادبولتاہے مگرافسوس کہ جب آنکھ کھلی توخواب بکھرچکاتھا۔
بین الاقوامی سیاست میں دوستی ایک خوبصورت لفظ ضرورہے،مگراس کی بنیادہمیشہ مفادپراستوارہوتی ہے۔جب تک مفادات ہم آہنگ رہیں،تعلقات بھی خوشگواررہتے ہیں؛مگر جیسے ہی مفادات میں تصادم پیداہو،وہی تعلقات بوجھ بن جاتے ہیں۔یواے ای نے جب اپنی کرنسی کوسہارادینے کیلئے امریکاسے کرنسی سویپ کی درخواست کی تواسے امیدتھی کہ اس کادیرینہ اتحادی اس مشکل گھڑی میں اس کاساتھ دے گا۔توجواب میں جوملاوہ الفاظ نہیں بلکہ خاموشی تھی،ایک گہری،معنی خیزخاموشی تھی،اورکبھی کبھی ایسی خاموشی جوالفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے،سب سے بلنداورعبرت ناک جواب ہوتی ہے۔
امریکا،جواپنے مفادات کانگہبان ہے،وہ کبھی بھی سعودی عرب جیسے اسٹریٹیجک ستون کوایک نسبتاًنوخیز،لگژری ریاست کیلئے قربان نہیں کرسکتاتھا۔امریکاکیلئے سعودی عرب صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کاایک ستون ہے۔پیٹروڈالرکی بنیاداسی تعلق پرقائم ہے،اوراس بنیادکوخطرے میں ڈالناکسی بھی صورت ممکن نہ تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب یو اے ای کوپہلی باراحساس ہوناچاہیے تھا کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی نہیں بلکہ مفادبولتاہے مگرافسوس کہ جب آنکھ کھلی توخواب بکھرچکاتھا۔
چنانچہ یواے ای کویہ تلخ حقیقت سمجھنے میں دیرنہ لگی کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی تعلق مستقل نہیں ہوتاسوائے مفادکے۔یہ لمحہ دراصل یواے ای کی سفارتی تنہائی کاآغازتھا۔اسے پہلی باریہ احساس ہواکہ اس کے گردموجوداتحاددراصل ایک سراب تھے،جوحقیقت کی دھوپ میں تحلیل ہونے لگے تھے۔فضائیں ہمیشہ آزادی کی علامت سمجھی جاتی ہیں،مگرجب یہی فضائیں بندہوجائیں تووہی آزادی قیدمیں بدل جاتی ہے۔سعودی عرب نے جب اپنی فضائی حدودکوسیکیورٹی وجوہات کے پردے میں بندکیاتوگویایواے ای کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیاگیا۔سعودی عرب کی جانب سے اماراتی پروازوں کیلئے فضائی حدودکی بندش ایک ایسا ہی اقدام تھاجس نے یواے ای کوعملی طورپرگھیرلیا۔دبئی سے لندن کاسفر جوکبھی سات گھنٹوں کی کہانی تھا،اب چودہ گھنٹوں کی آزمائش بن گیا۔یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹیجک ضرب تھی۔دبئی،جوعالمی ہوابازی کامرکزتھا،اچانک اپنی برتری کھونے لگا۔لمبے راستے،بڑھتے اخراجات،اورمسافروں کی کم ہوتی تعدادیہ سب مل کراس شہرکی معیشت پرایک کاری ضرب بن گئے۔
یہ محض فضائی راستے کی بندش نہ تھی بلکہ عالمی تجارت،سیاحت اورمسابقت کے دروازوں پردستک دینے والی ایک خاموش دستبرداری تھی۔لگژری ہوٹلز،جوکبھی سیاحوں سے بھرے رہتے تھے،اب سنسان دکھائی دینے لگے۔شیشے کی عمارتوں میں روشنی تو تھی مگرزندگی کی حرارت مفقودہوچکی تھی۔دبئی،جوکل تک ایک خواب تھا،آج ایک سوال بن گیاتھا،جوکل تک روشنیوں کاشہرتھا،آج ایک تنہاجزیرے کی ماننددکھائی دینے لگاجہاں شیشے کے محلات توتھے مگرزندگی کی رونق ماندپڑچکی تھی اوردبئی کی روشنیاں اپنے تاریک مقدرپرنوحہ گراں دکھائی دینے لگیں۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت،خوراک اوررسدکے محاذپربھی اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔یادرہے کہ جنگ ہمیشہ بارودسے نہیں لڑی جاتی؛کبھی کبھی روٹی بھی ہتھیاربن جاتی ہے۔یو اے ای کی سترفیصدخوراک زمینی راستوں سے آتی تھی،اورجب یہ راستے مسدودہوئے توبازاروں میں مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ۔گویایواے ای کاخوراک کیلئے بیرونی انحصاراس کی سب سے بڑی کمزوری بن کرسامنے آیا۔جب زمینی راستے مسدودہوئے تواشیائے خوردونوش کی قلت پیداہوگئی۔قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،اوروہ معاشرہ جوآسائش کا عادی تھا،اچانک ضرورت کی سطح پرآگیا۔یہ منظرایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کاوہ ماڈل جوخودکفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتاہے۔ایک ہفتے کے اندرقیمتوں کاچارسوفیصدبڑھ جانااس بات کاثبوت تھاکہ معیشت کی عمارت کتنی نازک بنیادوں پرکھڑی تھی۔سپرمارکیٹوں میں راشن بندی،بندہوتے کیفے،اورخالی میزیںیہ سب اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ آسائش کا یہ قلعہ اندرسے کتناکھوکھلاتھا۔یہ منظرایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کا وہ ماڈل جوخودکفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتاہے۔بھوک،جوہمیشہ خاموشی سے آتی ہے،یہاں بھی آہستہ آہستہ اپنے قدم جمارہی تھی۔(جاری ہے)