قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں ایک سنگین انکشاف ہوا ہے کہ ٹھیکیداروں کو ترقیاتی کاموں کے لیے بغیر لیب رپورٹس کے 11 ارب روپے دے دیے گئے۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین جنید اکبر نے کی، جس میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پی اے سی نے چینی کی قیمتوں، برآمدات اور درآمدات کی رپورٹ نہ پیش کرنے پر وزارت تجارت اور صنعت کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین جنید اکبر نے اس پر وزارت سے رپورٹ طلب کی اور کہا کہ وفاقی سیکریٹریز سیکرٹری صنعت، سیکرٹری تحفظ خوراک اور سیکرٹری تجارت کو طلب کیا جائے۔ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے متعلق آڈٹ اعتراضات کی تحقیقات کے دوران گرانٹ کی رقم کے لیپس ہونے کے معاملے پر سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کی تاخیر سے ریلیز ہونے کی وجہ سے مسئلہ آیا۔ اس پر کمیٹی نے خزانہ حکام سے استفسار کیا اور اس معاملے کو آئندہ کے لیے موخر کردیا۔پی اے سی نے پاک پی ڈبلیو ڈی سے متعلق بھی سوالات کیے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ کابینہ نے پی ڈبلیو ڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اس پر حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ جنید اکبر خان نے اس ادارے کی کرپشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی زیادہ کرپشن ایک ادارے میں کیوں ہو رہی ہے؟
آڈیٹر جنرل نے اس حوالے سے بتایا کہ کسی بھی محکمے کا مکمل پرفارمنس آڈٹ نہیں کیا گیا۔اجلاس کے دوران 952 ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں میں طے شدہ کوالٹی کے مطابق کام نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ معاملہ ملی بھگت کا نتیجہ تھا، جس میں اربوں روپے جاری کیے گئے اور بروقت لیب رپورٹس کا جائزہ نہیں لیا گیا۔کمیٹی نے سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو مذکورہ کاموں کی تکمیل پر برہمی کا اظہار کیا اور ایک مہینے کے اندر آڈٹ اعتراضات کا جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ مزید یہ کہ متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے اور اصلاحات کی جا سکیں۔