بارش:مزید 14 افراد جاں بحق

سکردو میں پھرکلائوڈ برسٹ سے تباہی، 3بچے نالہ بھیڑ میں گر کر ڈوب گئے ، چناب میں ریلا چنیوٹ داخل
لاہور،راولپنڈی،اسلام آباد،سکردو،فیروزوالہ ، نوکھر (خصوصی رپورٹ )ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ، 24 گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات کے نتیجہ میں مزید 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ،ابتک مجموعی طور پر 266 افراد جاں بحق اور 628 زخمی ہوچکے،سکردو میں پھر بادل پھٹ گئے، 49 مکانات، 20 دکانیں اور 2 مساجد منہدم ہو گئیں جبکہ گلگت بلتستان میں لاپتہ ایک اور سیاح، اسلام آباد میں کار سمیت سیلابی ریلہ میں بہہ جانیوالے کرنل(ر)کی لاشیں مل گئی، متوفی کرنل (ر)کی بیٹی کی تلاش جاری ہے،،لاہور میں بارش سے کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )نے جاری اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں سے پنجاب میں 5، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں 3،3، اسلام آباد میں 2 اور سندھ میں ایک شخص جاں بحق ہوا، 246 مکانات کو نقصان پہنچا اور 38 جانور پانی میں بہہ گئے۔ فیروزوالہ میں رانا ٹاوٓن کے قریب 3 بچے کھیلتے ہوئے نالہ بھیڑ میں گر کر ڈوب گئے۔ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیموں نے ڈوبنے والے بچوں 13 سالہ ساحل خان، 12 سالہ فیضان اور 11 سالہ عبدالہادی کی تلاش شروع کر دی۔ادھر گوجرانوالہ میں تھانہ کوٹ لدھا کے علاقہ نوکھر میں چھت گرنیسے 60 سالہ مستنصر حسین شاہ دم توڑ گیا جبکہ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ بابوسر ویلی سے ایک اور لاش ملنے کے بعد جاں بحق سیاحوں کی تعداد 6 ہو چکی۔مزید برآں سکردو کے علاقے کندوس میں بھی کلاوٓڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید سیلاب سے رابطہ پل بھی بہہ گیا، جس سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا،سب ڈویڑن ڈغونی میں مکان کی چھت گرنے سے ایک لڑکی جاں بحق ہوگئی ، دو روز قبل ضلع دیامر میں بھی کلاوٓڈ برسٹ کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچائی تھی ، شاہراہِ تھک بابوسر تاحال بندہیں۔دوسری جانب ریسکیو ٹیموں نے جمعرات کو 64 سالہ ریٹائرڈ کرنل اسحق قاضی کی لاش سیکٹر 4 و فیز 7 کو ملانے والیسواں ریور برج کے قریب سے برآمد کر لی جبکہ ان کی ڈاکٹر بیٹی کی لاش تلاش کرنے کیلئے آج چوتھے روز پھر آپریشن شروع کیا جائیگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور،شیخوپورہ، حافظ آباد سمیت دیگر شہروں میں گزشتہ روز بھی وقفے وقفے سے بارش ہوئی ،نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ تک بلند ہوگئی، راول ڈیم میں پانی کی سطح 1 ہزار 749 فٹ ہونے پر سپل ویز کھول دیئے گئے۔ لاہور کے سمن آباد، اچھرہ، قرطبہ چوک، مزنگ، پنڈی سٹاپ، فیروزپور روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ پنجاب ، خیبر پختونخوا سمیت بالائی علاقوں میں آئندہ 24گھنٹوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ،فیصل آباد اور گوجرانولہ میں اربن فلڈنگ،مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ اس وقت دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر درمیانے اور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، دریائے چناب میں قادر آباد سے سیلابی ریلا ضلع چنیوٹ کی حدود میں داخل ہو چکاجو اب جھنگ میں ہیڈ تریموں سے گزرے گا۔دوسری جانب اٹک کی تحصیل حضرو میں شینکہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے پر بیلے میں 40 افراد پھنس گئے تاہم ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے 5 گھنٹے کے ریسکیو آپریشن میں تمام افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔