بارش:مزید 6 جاں بحق ، 20 ارب کا نقصان

   پنجاب کے  دریاوں ، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ،  تونسہ کے 20دیہات زیر آب
اسلام آباد ،لاہور،گلگت(خصوصی رپورٹ )ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے دوران گزشتہ 24گھنٹیمیں مزید  6 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہو گئے ہیں، ادھر گلگت  بلتستان میں مٹی اورکیچڑ  کے  سیلاب سے  مکانات تباہ ہو گئے، سیکڑوں کنال اراضی کو نقصان پہنچاہے،  وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حالیہ سیلاب اور شدید بارشوں سے علاقے کو 20 ارب روپے کا نقصان پہنچا    ، حکومت کو فوری طور پر 7 ارب روپے کی ضرورت ہے ،وزیراعظم پاکستان اور عالمی ادارے مدد کریں۔دوسری طرف   تونسہ کے مقام پر سیلاب سے 20 سے زائد دیہات زیرا?ب ا?گئے۔تفصیلات کے مطابق  نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  نے   26 جون سے 26 جولائی تک کے نقصانات بارے جاری رپورٹ میں بتایا   ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک 271 افراد جاں بحق،655 زخمی ہو چکے،ان    میں 132 بچے، 93 مرد، 46 خواتین شامل ہیں، پنجاب میں سب سے زیادہ 145 افراد جاں بحق، 514 زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر اب تک 1 ہزار 191 گھروں کو نقصان پہنچا، 367 مویشی پانی میں بہہ گئے، ساڑھے 18 کلو میٹر سڑکوں اور 12 پلوں کو نقصان پہنچا۔ دریں اثناء￿  گزشتہ روز   گلگت کے علاقے جوتل میں بارش کے بعد مٹی اور کیچڑ  کے  سیلاب  سے باغات سمیت فصلیں بھی  تباہ ہو گئیں۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر پر 8 مقامات سے سیلابی ملبہ ہٹا کر کھومل کے مقام تک سڑک بحال کر دی    ، فیری میڈوز میں پھنسے زیادہ تر سیاحوں کو ریسکیو کیا جا چکا،ضلع دیامر میں 9 گاو?ں تباہ ہوئے  ،متاثرہ مقامات پر بے گھر ہونے والے متاثرین میں 300 خیمے ، 300 فو ڈ پیکٹس ، 50 کچن سیٹ اور 509 کمبل تقسیم کئے جا چکے،   درجنوں افراد بے گھر ہو  گئے ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب  نے  دریائے چناب اور جہلم میں نچلے سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا  الرٹ جاری کر دیا ۔ دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ ، چشمہ، گڈو اور سکھر بیراج پر  بھی سیلابی صورت حال ہے۔ تربیلا کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی ا?مد3   لاکھ 13    ہزار  300 کیوسک ،اخراج   2 لاکھ   57 ہزار 400 کیوسک، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں ا?مد 29 ہزار 700 کیوسک اور اخراج  7  ہزار   ،ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی ا?مد 61 ہزار 500 کیوسک اور اخراج  37  ہزار   100 کیوسک ہے۔علاوہ ازیں  دریائے سندھ سے گزرنے والے سیلابی ریلے میں اٹک کی تحصیل حضرو کی 2 منزلہ پولیس چوکی دریا میں بہہ گئی۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں  کا ایک اور سپیل  کل 28   جولائی سے شروع ہو گا، 28 سے 31 جولائی کے دوران   لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالا  سمیت  پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔  خیبرپختونخوا کے سیاحتی علاقوں میں 29 جولائی تک سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔ ا?ج سے 31 جولائی تک ا?زاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بارش کا   نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے  ،بلوچستان  میں  سیلاب ، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔