صاحب اسلوب شاعر محمود الحسن گیلانی

صبا ممتاز بانو

معروف قانون دان اور صاحب اسلوب شاعر محمود الحسن گیلانی  نے اپنی نعتیہ شاعری پر مشتمل مقدس کتاب کا انتخاب اپنی محترم والدہ سیدہ حمیدہ بی بی اور والد پیر سید سردار محمد گیلانی کے نام کیا ہے جو کہ ان کی اپنے والدین سے محبت اور لگاؤ کے ساتھ ساتھ   جذبہ اطاعت اور فرمانبرداری بھی ظاہر کرتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت مسلمان کے خمیر میں شامل ہے۔ محمود الحسن گیلانی صاحب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کو عشق رسول کی فضا میں پنپنے کا موقعہ ملا جس سے آتش عشق فروزاں ہوئی اور زندگی کے حقیقی معنی نکھر کر ان کے سامنے آگئے جو موتیوں کی صورت ان کے شعروں میں چمک گئے۔
نعت بہت حساس صنف ہے جسے لکھنے کے لیے ایمان اور  وفور محبت کا ہونا تو لازمی ہے مگر احتیاط بہت زیادہ ضروری ہے کیونکہ رشتہ عقیدت میں  الفاظ کی لغزش انسان کے ایمان کو دائرہ ایمان سے خارج کر سکتی ہے۔نعت گوئی میں والہانہ عشق اسے  منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ محمود الحسن گیلانی کے آباؤ اجداد کا تعلق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حضرت امام حسن کے بیٹے حسن مثنی کی اولاد سے ہے۔ ان کے آباؤ اجداد دین اسلام کی تبلیغ کیلیے عراق سے شہر گیلان سے برصغیر میں آئے اور انہوں نے اپنے عمدہ کردار ، شائستہ گفتار اور اعلی اخلاقیات سے اسلام کی اشاعت میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔محمود الحسن گیلانی صاحب نے بچپن سے ہی مذہبی ماحول دیکھا۔ روحانی محافل کے زیر سایہ ان کی پرورش ہوئی۔  پہلو ٹھی کے بیٹے ہونے کے ناطے  انہیں بھرپور محبت کے ساتھ ساتھ اچھے انداز میں تربیت حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔
انہوں نے ایم اے اردو اور ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور پھرتبدیلی کے خواب لیے وکالت کے پیشے سے منسلک ہو گئے جس میں کامیابیاں ان کا مقدر بنیں۔
اس ملکی کی تعمیر و ترقی کے لیے وہ بہتر نظام کی تشکیل کے لیے کوشاں ہوئے مگر بدعنوان اور مفاداتی عناصر کی وجہ سے اس ملک کے فرسودہ اور کرپٹ نظام کو وہ خواہش کے باوجود بھی بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن انہوں نے اپنی اس کوشش کو ترک نہیں کیا بلکہ اپنے قلمی ہتھیار سے اس نظام کے اصلاح کی کوشش کو جاری رکھا۔قلم کا جہاد بھلے دیر سے فتح کا جھنڈا گاڑے مگر اس کی طاقت اور اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
قلمی جہاد میں وہ پوری طاقت سے کھڑے رہے اور باطل قوتوں کو احساس دلاتے رہے کہ 
ایک مسلمان کی زندگی میں خیر وبرکت کا سبب بھلی سوچیں ہی ہیں جن کو کرنا تو درکنار، ہم نے سوچنا بھی ترک کر دیا ہے۔
 محمود الحسن گیلانی صاحب نے اپنی پہلی غزل اٹھویں جماعت میں کہی۔گویا شاعری سے ان کا عشق بچپن سے شروع ہوا۔ عروض کا باقاعدہ علم علامہ بشیر رزمی سے سیکھا۔ وہ 1964 میں پیدا ہوئے اور بچپن سے لے کر تا حال وہ ایک فعال اور سرگرم شخصیت کے طور پر کام کر رہے ہیں جو کہ تحفہ خداوندی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت اور لگاؤ عقیدت کے رنگوں میں ڈھل کر منفرد نعت گوئی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کا ہر شعر عبادت کا پیکر ہے۔
آپ کو جب بھی پکارا ہے مدد کے واسطے
   مل گیا ساحل مجھے منجدھار سے
  مجھ پر ہے محمود چشم مصطفی
    در نکل آیا ہے خود دیوار سے
 کیا عمدہ شعر ہے جس میں شاعر اپنی ہر تکلیف میں مدد کے واسطے جب حضور کو پکارتا ہے تو اسے کسی تردد اور انتظار کے بغیر ہی ساحل مل جاتا ہے۔جب کبھی اسے  دکھوں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ملتی تو  دیوار سے ہی در نکل اتا ہے۔اس شعر میں بڑی عمدگی کے ساتھ بہت فنکارانہ اور اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے 
وہ نعت گوئی سے معاشرتی اصلاح کا کام بھی لیتے ہیں اور سماجی مسائل کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ انسان کے اندر سویا ہوا انسان جاگ جاتا ہے اور وہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے بارے میں غور کرنے لگتا ہے۔وہ آداب محبت کو شرافت اور عشق رسول سے لبریز کرتے ہیں۔ وہ انسانی زندگی کے اخلاقی، مذہبی، تہذیبی ، معاشرتی معاشی اور سیاسی پہلوؤں کو موضوع بحث بنا کر انسان کو عقیدت رسول کا راستہ دکھاتے ہیں کیونکہ یہی راستہ انسان کی نجات  اور شفاعت کا راستہ ہے۔وہ انسان کو  گمراہی سے نکالنے کی رہبری کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ بلا شبہ  نعت رسول ص لکھنا نیکی ہے ، محبت ہے ، عقیدت ہے عشق ہے۔ عاشق رسول ص جب محبت سے سرشار ہو تو زبان محبت کے ترانے اگلنے لگتی ہے۔انسان کو سکون دل صرف محبت رسول سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ ذکر رسول راحت ہے چین ہے سکون ہے اور یہی کچھ محمود الحسن گیلانی صاحب ہمیں  بتانا چاہتے ہیں کہ
 جب نوازش آپ کی ہونے لگی
 ہر طرف ایک روشنی ہونے لگی
 آگئی پھر ان کی رحمت جوش میں
 جب کبھی کوئی کمی ہونے لگی
 اس شعر میں وہ محبت بھرے انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نوازشوں کا ذکر کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندگی میں جب چاشنی کم ہونے لگی تو اس وقت بھی رسول خدا نے ان کو یاد رکھا اور ان کی رحمت کی وجہ سے ان کی زندگی میں پھر سے روشنی آگئی۔یہ  بڑا ہی خوبصورت پیغام ہے جو انسان کو جہالت سے نکلنے کے لیے رسول عشق کی طرف مائل کرتا ہے 
وہ بزم سرخیل ادب لاہور کے سربراہ بھی ہیں اور مختلف ادبی تقریبات کرتے رہتے ہیں
  
ٹل گئی ساری مشکلیں گھر کی
 جشن میلاد جب سے برپا ہے

 بلا شبہ محمود الحسن گیلانی صاحب ایک کہنہ مشق اور صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں نئی نئی اصناف کو بڑی مہارت سے پروتے ہیں۔اس ضمن میں خوب صورت تشبیہات اور استعارات کا استعمال کرتے ہیں۔وہ ادراکات کی دنیا میں داخل ہوتے وقت جنوں کا دامن بھی تھامے رکھتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں سوز ودروں کی کیفیت پوری طرح جھلکتی ہے۔
وہ اپنے اشعار میں بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہیں اور یہ پکار اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے۔ انسان جس سے شدید محبت کرتا ہے اسے ہی اپنی دکھ تکلیف خوشی میں پکارتا ہے۔
 دکھائی مجھے کچھ بھی دیتا نہیں ہے
 نبی ہی نور ہے بس وہم و گماں میں
 ایسا لگتا ہے کہ ان کے الفاظوں نے محبوب کبریا سے تازگی پائی ہے اور یہ میلاد مصطفی کا کرم ہے کہ لوگ ذکر رسول میں آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ ذکر رسول سے راحت ملتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بے شمار تحائف دیے۔ انسان جس صنف میں ان سے محبت کا بہترین اظہار کر سکتا ہے وہ نعت گوئی ہے۔اس نعت گوئی کے فن میں نمود الحسن گیلانی صاحب نے کمال تاثیر پیدا کی  ہے۔نعت گوئی میں ان کی قلبی کیفیات نے ایسا سرور پیدا کردیا ہے کہ جسے وہ صاحب درد ہی سمجھ سکتا ہے جو رسول عشق میں سر تاپیر ڈوبا ہوا ہو۔
محمود الحسن گیلانی صاحب کا نام مزید روشن ہوچکا ہے۔یہ روشنی ہم سب کو بھی عافیت اور شفاعت کے لیے محبت رسول کا درس دے رہی ہے۔