سپیکر نے اجلاس طلب کرلیا‘ پی ٹی آئی کا شرکت سے انکار اب کس سے بات کریں؟ سینیٹرعرفان صدیقی

 جنوری کو اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے‘ حکومت نے 8 قوانین پاس کیے، تمام قوانین پر صدر کا اعتراض تھا انہیں ڈسکس نہیں کیا گیا:بیرسٹرگوہر
جیل کا پھاٹک کھلتا ہے اور کوئی صاحب اچانک باہر آ کر اعلان کر دیتے ہیں مذاکرات نہیں ہوں گے:عرفان صدیقی کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی ) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا جس میں پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا ہے۔  اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس 28 جنوری کو دوپہر پونے بارہ بجے طلب کیا ہے۔۔دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اب کسی اور مذاکراتی میٹنگ میں شریک نہیں ہوگی،  28 جنوری کو ہونے والے مذاکراتی اجلاس میں پی ٹی آئی شرکت نہیں کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آج حکومت نے 8 قوانین پاس کیے، تمام قوانین پر صدر کا اعتراض تھا لیکن صدر کا کوئی اعتراض ڈسکس نہیں کیا گیا، 11  منٹ میں 8 قوانین پاس کرلیے۔دریں اثناء حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے  مذاکرات یک طرفہ طور پر ختم کیے گئے ہیں، اب کس سے بات کریں؟۔میڈیا  سے بات  بات  ہوئے   عرفان صدیقی نے کہا  ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے۔ جب ایک طرف سے ختم ہو گئے ہیں تو ہم کس سے بات کریں؟۔ ہم اس کمرے میں بیٹھ کر دیواروں سے بات کریں۔مذاکرات میں صبر اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے، مسئلہ یہ ہے مذاکرات کے سلیقے اور قرینے کبھی ان کے نصاب کا حصہ نہیں رہے، یہ بچوں کا کھیل تھوڑی ہے آپ ایک دن کہتے ہیں بات نہیں کرتے، دوسرے دن کوئی اور بیان دیتے ہیں۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ معاملہ یہ ہے جیل کا پھاٹک کھلتا ہے اور کوئی صاحب اچانک اعلان کر دیتے ہیں مذاکرات نہیں ہوں گے، ان کی مذاکراتی کمیٹی کو پتا ہی نہیں ہوتا، یہ بچوں کا کھیل نہیں، یہ اگر مگر سے نکلیں، جو طے ہوا تھا 28 تاریخ کو بیٹھیں، تو آئیں بیٹھیں اور ہمیں سنیں۔