برطانیہ میں چھاتی کے کینسر کے باعث ہونے والی اموات میں آئندہ 25 سال کے دوران تقریباً 40 فیصد اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس نے طبی ماہرین اور عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق:
2022 میں 12,000 سے زائد خواتین چھاتی کے کینسر کے باعث جاں بحق ہوئیں۔
2022 میں 58,000 سے زائد مصدقہ کیسز سامنے آئے۔
2050 تک یہ تعداد 71,000 سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
50 سال سے کم عمر خواتین میں بھی اس بیماری کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برطانیہ میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق برطانیہ وہ واحد ملک ہے جہاں امریکا اور یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں چھاتی کے کینسر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور سویڈن میں بھی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔
تحقیق کے نتائج اور اسباب
بین الاقوامی ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) نے 50 ممالک کا ڈیٹا مرتب کرنے کے بعد نتائج جاری کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چھاتی کے کینسر میں اضافے کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
غیر صحت مندانہ طرز زندگی (جس میں ناقص خوراک، موٹاپا، اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہے)
الکحل اور تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا استعمال
تاخیر سے تشخیص اور علاج کی رسائی میں مشکلات
ہارمونی تبدیلیاں اور دیر سے شادی یا ماں بننے کا رجحان
ماہرین کا ردعمل اور ممکنہ حل
ماہرین نے حکومت اور صحت عامہ کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ:
✅ چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ پروگرامز کو مزید مؤثر بنائیں۔
✅ عوامی شعور اجاگر کرنے کی مہمات چلائیں۔
✅ صحتمند طرز زندگی اپنانے کے لیے اقدامات کریں۔
✅ تحقیق اور جدید علاج کے لیے سرمایہ کاری بڑھائیں۔
نتیجہ
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو برطانیہ میں چھاتی کے کینسر کے کیسز اور اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ عوامی سطح پر ابتدائی تشخیص، متوازن خوراک، اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دے کر اس مہلک بیماری کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔