بھارت کی شوٹر منو بھاکر، جو کہ اولمپک میں دو برانز میڈلز جیتنے والی واحد بھارتی ایتھلیٹ ہیں، دھیان چند کھیل رتنا ایوارڈ کے لیے نامزدگی سے محروم ہو گئیں، جس پر ان کے والد اور کوچ نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
منو بھاکر کے والد رام کشن بھاکر نے کہا کہ یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی کھیلوں میں حوصلہ افزائی کی، اور انہوں نے دیگر والدین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو کھیلوں میں نہ لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیسہ کمانا ہے تو کرکٹر بنائیں اور اگر طاقت چاہیے تو پولیس یا ایڈمنسٹریشن میں جائیں۔منو بھاکر کے کوچ جسپال رانا نے کہا کہ منو کی نامزدگی آٹومیٹک ہونی چاہیے تھی، اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس اتھارٹی اور رائفل ایسوسی ایشن اس کے ذمہ دار ہیں، اور اس طرح کی تذلیل سے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
منو بھاکر نے اس معاملے پر کہا کہ ان کا کام کھیلنا اور ملک کے لیے میڈلز جیتنا ہے، اور ایوارڈ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مگر یہ ان کا حتمی مقصد نہیں۔تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق، کڑی تنقید کے بعد منو بھاکر کا نام ایوارڈ کی فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست حتمی شکل میں نہیں آئی۔