اترپردیش کے شہر جھانسی میں شدید گرمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ایک غریب خاندان کو اپنے گھر کی بجائے اے ٹی ایم بوتھ میں رہنا پڑ گیا۔
وہاں کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے اور شہر میں بجلی کی فراہمی کئی دنوں سے متاثر ہے، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔خاندان کے افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، نے گرمی سے بچنے کے لیے اے ٹی ایم بوتھ میں ڈیرہ ڈال لیا کیونکہ وہاں اے سی لگا ہوا ہے اور تھوڑی ٹھنڈک مل جاتی ہے۔ خاندان کی ایک خاتون نے بتایا کہ گھر میں نہ دن میں بجلی آتی ہے اور نہ رات میں، اس کے باوجود انہیں روزانہ کام پر جانا پڑتا ہے تاکہ بچوں کو کھانا کھلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے مسلسل یہی صورتحال ہے، اس لیے انہوں نے اے ٹی ایم بوتھ کو عارضی ٹھکانہ بنا لیا ہے۔یہ منظر بھارت میں بجلی اور توانائی کے بحران، اقتصادی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امیر طبقہ ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں گرمی سے بچتا ہے تو غریب عوام کو اپنی زندگی بچانے کے لیے ایسے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔
یہ ویڈیو اور واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے حکومت کی ناکامی پر سوالات اٹھائے ہیں اور کچھ نے اس خاندان کی ہمت کی تعریف کی ہے۔ ماہرین اور سماجی حلقے اسے بھارت میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، بنیادی سہولیات کی کمی اور شہری مسائل کی علامت قرار دے رہے ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی غریب طبقے کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے اور حکومت کو فوری طور پر توانائی اور شہری سہولیات کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔