مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران منشیات کیس سے جڑے گرفتار ملزم ساحر حسن کی انٹیروگیشن رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم 13 سال سے منشیات استعمال کر رہا تھا اور دو سال پہلے اس نے منشیات کی فروخت شروع کی۔
رپورٹ کے مطابق ساحر حسن بڑی مقدار میں منشیات فروخت کرتا تھا اور اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم وہ اپنے والد کے منیجر کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتا تھا۔ مصطفیٰ قتل کیس میں نامزد ملزم ارمغان ہر ہفتے یا دو ہفتے میں 1400 گرام منشیات ساحر سے خریدتا تھا۔ساحر حسن بازل اور یحییٰ نامی افراد سے منشیات خریدتا تھا، جو کوریئر کے ذریعے اسے منشیات بھیجتے تھے۔ ان افراد کو ساحر حسن 4 سے 5 لاکھ روپے ادا کرتا تھا۔ ساحر حسن ایک ماہ میں دو بار 1200 گرام منشیات منگواتا تھا، جسے وہ 10 ہزار روپے فی گرام کے حساب سے فروخت کرتا تھا۔ ملزم اپنے کسٹمرز سے فون پر رابطہ کرتا تھا اور وہ اس کے گھر سے منشیات خریدتے تھے۔